کوئٹہ؛ بلوچستان کے علاقے نوشکی کے ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنر مسلح افراد کی تحویل سے بازیاب ہوگئے پولیس ذرائع کے مطابق گزشتہ روز نوشکی میں مسلح افراد کے حملے کے دوران ڈپٹی کمشنر نوشکی محمد حسین ہزارہ اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمون کو اپنے ہمراہ لے گئے تھے
اتوار کو دونوں آفیسران بازیاب ہوگئے پولیس ذرائع کے مطابق دونوں افسران کو بحفاظت ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پو لیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مسلح افراد نے ڈپٹی کمشنر نوشکی اور خاتون اسسٹنٹ کمشنر کو چھوڑ دیا، تاہم واقعے کی مزید تفصیلات اور رہائی کے محرکات سے متعلق معلومات تاحال سامنے نہیں آسکیں
گزشتہ روز نوشکی میں دہشتگردوں کے منظم حملوں کے دوران ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ اور اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمون کو ان کی رہائش گاہ سے اغوا کر لیا گیا تھا،
جس کے بعد علاقے میں ان کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا تھا۔اغوا کے بعد کالعدم تنظیم کی جانب سے ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی جس میں ڈپٹی کمشنر محمد حسین ہزارہ مختصر پیغام میں یہ بتاتے ہوئے دکھائی دئیے تھے
کہ وہ مسلح گروہ کی تحویل میں ہیں ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد سکیورٹی اداروں نے کوششیں مزید تیز کر دی تھیں پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے مطابق بازیابی کے بعد دونوں افسران کی سکیورٹی اور طبی جانچ کی جا رہی ہے، جبکہ واقعے سے متعلق مکمل تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔