|

وقتِ اشاعت :   February 2 – 2026

کو ئٹہ: چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان کی زیر صدارت منعقدہ کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کانفرنس میں صوبے بھر میں تعلیم و صحت کے شعبوں میں عارضی بنیادوں پر اساتذہ اور ڈاکٹروں کی تعیناتیوں، صوبے میں آٹے کی دستیابی، پرائس کنٹرول، کھلی کچہریوں میں عوامی مسائل کا حل سمیت متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔

کانفرنس میں عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔

کانفرنس میں محکمہ تعلیم اور صحت میں خالی پڑی عارضی پوزیشنز پر فوری بنیادوں پر اساتذہ اور ڈاکٹروں کی تعیناتی کا حکم جاری کیا گیا۔ اس اقدام کا مقصد دیہی علاقوں میں تعلیمی اور طبی سہولیات کی دستیابی کو بہتر بنانا ہے۔ چیف سیکرٹری نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ باقاعدہ کھلی کچہریاں منعقد کریں اور عوامی مسائل، سہولیات کی عدم دستیابی اور دیگر شکایات کا فوری حل یقینی بنائیں۔ انہوں نے صوبے بھر میں آٹے کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے تناظر میں ڈپٹی کمشنرز کو پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو متحرک کرنے اور فلور ملز، آٹا چکیوں پر سخت نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی۔

تاکہ رمضان المبارک میں عوام کو سستا آٹا کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔ انہوں نے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی اور ان کی بروقت تکمیل پر زور دیا گیا۔ چیف سیکرٹری نے کہا کہ صوبے کی معاشی ترقی کے لیے انفراسٹرکچر، پانی، بجلی اور روڈ نیٹ ورک کے منصوبوں کو تیز رفتار دینا ضروری ہے۔

یہ فیصلے بلوچستان حکومت کی عوام دوست پالیسیوں کا حصہ ہیں جو شفافیت، کارکردگی اور عوامی ریلیف کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت دستیاب وسائل میں رہتے ہوئے عوام کی فلاح وبہبود کے لیے کام کر رہی ہے، لوگوں کا معیار زندگی مزید بہتر بنانے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے انتظامیہ اور ادارے اپنی کوششیں مزید تیز کردے، تاکہ ہر شہری ایک بہتر اور مطمئن زندگی گزار سکیں۔