|

وقتِ اشاعت :   February 4 – 2026

کوئٹہ:  امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہاکہ87ارب روپے سیکورٹی پرخرچ ہونے کے باوجوداہل بلوچستان بدامنی کاشکار،امن سے محروم،بدامنی اورظلم کاشکارہیں سیکورٹی ادارے سیکورٹی کے بجائے اورکاموں میں مصروف ہیں۔

حکمران وسیکورٹی ادارے بلوچستان کوفوجی آپریشن،بدامنی،طاقت کے استعمال وگولی میں دھکیلنے کے بجائے امن دے۔بدامنی ظلم کے ذمہ دار سیکورٹی فورسز اورحکومت ہیں۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے گوادرمیں میں وفودسے ملاقات اوراجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کو گھروں میں محصور کردیاگیاہے شاہراہیں انٹرنیٹ شہروبازارکاروباروتجارت بندہیں نوجوانوں کیلئے روزگار،عوام کیلئے امن وتجارت ہے نہ صنعت وزراعت اوپرسے ایران افغانستان سے سرحدیں بھی بندہیں۔

ہرطرف ناانصافی بدامنی ظلم وجبرکادوردورہ ہے عوام،تاجر،ٹرانسپورٹرز محفوظ ہیں نہ تاجر،شہری وبچے اورطلبا محفوظ ہیں،سیکورٹی اداروں کے آفیسرز دعوے واعلانات جبکہ حکومت خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

جماعت اسلامی ظلم وزیادتیوں ناانصافی وبدامنی اوربدعنوانی کے خلاف خاموش نہیں ہوگی۔ہرظلم وجبرلاقانونیت وبدامنی اوربدعنوانی کے خلاف بھرپورآوازبلندکیاجائیگا۔

حکومت وسیکورٹی اداروں کواہل بلوچستان کوہرصورت امن دیناہوگا۔جھوٹیدعووں بے عمل اعلانات الزامات کے بجائے حقیقی امن کیلئے کام کیاجائے طاقت کااستعمال گولی فوجی آپریشنز سے پہلے امن قائم ہواہے نہ آئندہ ہوگانفرت ظلم گولی اورطاقت کے بجائے بامقصد مذاکرات کیے جائے حقوق وروزگارفراہم کیاجائے۔روزگار،عزت واحترام حقوق دینے کیساتھ عوام کے دل جیتنے کیلئے کام کیاجائے۔