کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے ریلوے، مین شاہراہیں، بارڈرز، تجارت، انٹرنیٹ بندعوام خوف ودہشت کاشکارسیکورٹی ادارے اورحکمران صرف تفل تسلیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کاہرگھر،ہرانسان پریشان اورمستقبل سے مایوس ہیں ہم امن اورجینے کاحق کس سے مانگیں۔
اسلام آباد کے حکمران اوربلوچستان حکومت اہل بلوچستان کوامن دینے کیلئے فوری سنجیدہ اقدامات اٹھائے دفعہ144اورآپریشن طاقت کااستعمال مسئلے کاحل نہیں۔
قومی سطح پر حقیقی نمائندوں عوامی قوتوں سے مشاورت کیاجائے اسمبلی کااجلاس فوری طلب کریں۔تمام سیاسی جماعتوں کت قائدین کو بلایا جائے
سرجوڑکراخلاص کیساتھ مل بیٹھ کامسئلہ بلوچستان، امن اورحقوق دینے کیلئے فوری وعملی اورمخلصانہ اقدامات اٹھائے سیکورٹی اداروں کوسیکوٹی کاکام عوام کے جان ومال کی حفاظت کاآئینی قانونی کام دیاجائے تاکہ امن بحال ہوجائے حکومت سیاسی لوگ اورعدلیہ والے اپنے اپنے آئینی کام کریں سیاسی کام سیاسی لوگ وحکومت کریں
بدقسمتی سے بلوچستان میں امن وامان ناپیدہے بلوچستان کامسئلہ سیاسی ہے اس سے طاقت وفوجی آپریشن سے حل نہیں کیاجاسکتا۔بے گناہوں کے قتل وشہادتوں سے بچے یتیم،مائیں بیوہ،بلوچستان تباہ،نفرت ظلم احساس محرومی وتعصب میں اضافہ ہو رہاہے سیاسی لوگوں،پارلیمان کے ممبران حقیقی قبائلی عمائدین کوسنناجائے اعتماد میں لیا جائے
مشاورت کی جائے طاقت ورلوگ طاقت کے نشے میں سیاسی قوتوں قبائلی عمائدین پارلیمان کوبائی پاس کرکے فیصلے کرتے ہیں یہ مناسب نہیں اس طرح حالات ٹھیک نہیں بلکہ مزیدخراب ہوں گے۔