|

وقتِ اشاعت :   February 5 – 2026

کوئٹہ:  8فروری کو مکمل پہیہ جام وشٹرڈائون ہڑتال ہوگا،تمام باشعور ، غیوراور جمہوریت پسند عوام ہڑتال کی کامیابی میں اپنا کردار ادا کرینگے، عوام نے جس انداز میں 8ستمبر کے ہڑتال کو کامیاب بنایا ،

اسی طرح 8فروری 2026کو بھی اپنے کاروبار، تجارت ، مارکیٹوں، ٹرانسپورٹ اور ہر شعبہ زندگی کو مکمل بندرکھنا ہوگا۔ ہڑتال مکمل طور پر امن ہوگا کسی بھی شرانگیزی ، اشتعال کی صورت میں ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ،

پشتونخوامیپ کے کارکنان اور تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل تمام اتحادی پارٹیوں کے رہنماء وکارکن ہڑتال والے دن مقررہ پوائنٹس پر بروقت حاضر ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رہنمائوں نے پارٹی ضلع کوئٹہ سے مربوط تحصیل سٹی ، تحصیل صدر ، تحصیل سریاب اور تحصیل کچلاغ کمیٹیوں اور مختلف مشترکہ علاقائی یونٹس کے علیحدہ علیحدہ اجلاسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

ان اجلاسوں میں مرکزی جنرل سیکرٹری عبدالرحیم زیارتوال ، مرکزی سیکرٹریز ڈاکٹر حامد خان اچکزئی، عبدالحق ابدال، صوبائی سینئر نائب صدر سید شراف آغا ، نائب صدر مجید خان اچکزئی، جنرل سیکرٹری کبیر افغان، صوبائی ایگزیکٹیوز کے اراکین صورت خان کاکڑ، رزاق خان ترین ، نظام عسکر، ملک عمر کاکڑ، حضرت عمر ایڈووکیٹ، گل خلجی، اقبال خان بٹے زئی ، حفیظ ترین، ضلع سینئر معاونین ، ضلع ایگزیکٹوز اور ضلع کمیٹی کے اراکین، تحصیل سیکرٹریز ، سینئر معاونین نے شرکت کی ۔

منعقدہ اجلاسوں میں تحریک تحفظ آئین پاکستان کے مرکزی قائدین کی جانب سے 8فروری 2026کو ملک بھر میں پہیہ جام وشٹر ڈائون ہڑتال کو زیر غورلایا گیا ۔ اجلاس میں پشتون بلوچ صوبے اور بالخصوص جنوبی پشتونخوا کے تمام اضلاع میں 8فروری کو مکمل پہیہ جام وشٹرڈائون ہڑتال کی کامیابی کے لیے جاری تیاریوں کو جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے ضلع کوئٹہ کے تما م تحصیلوں،

علاقائی اور ابتدائی یونٹس کو ہدایت کی گئی کہ وہ تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شامل اتحادی جماعتوں کے ہمراہ ہڑتال کی کامیابی کے لیے بھرپور حکمت عملی طے کرے۔

علاقوں میں انائوسمنٹ ، گھر گھر عوامی رابطہ مہم ، پمفلٹ تقسیم کرنے اور زندگی کے ہر مکتبہ فکر کے عوام سے ہڑتال کی کامیابی کے لیے تعاون کی اپیل کرے۔ اجلاس سے عبدالرحیم زیارتوال ، سید شراف آغا، مجید خان اچکزئی ، کبیر افغان اور دیگر رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 8فروری 2024کو ملک کے 25کرورڑ انسانوں پر زر وزور کی بنیاد پر غیر نمائندہ اور نام نہاد حکمرانوں کو مسلط کیا گیا

اور ان کے ذریعے مسلسل غیر آئینی ، غیر جمہوری ، غیر قانونی آئینی ترامیم وقوانین میں تبدیلی کرکے ملک کے متفقہ آئین کو پائمال کرنے، مقننہ کی بے توقیری ، پیکا ایکٹ کے ذریعے آزادی اظہار رائے پر قدغنیں، 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے عدلیہ کی آزادی سلب کرنے ،مائنز ومنرل کے سیاہ قوانین کے تحت عوام کے زمینوں، وسائل ، جنگلات پر قبضہ کرنے کے لیے انتقالات کیئے گئے ۔ ہمارے عوام کی تجارت باڈر ٹریڈ کو ختم کردیا گیا ،

روزگار کے تمام ذرائع چھین کر عوام کو سخت ترین مہنگائی ، بدترین بیروزگاری ، بدامنی کی جانب دھکیلا گیا جس کے باعث آج ملک خانہ جنگی کا منظر پیش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی ، پارلیمنٹ کی خودمختاری ، سیاست میں اداروں کی مداخلت کے رول کے خاتمے ، قوموں کی برابری پر مبنی حقیقی جمہوری فیڈریشن کے قیام ،

عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، عوام کے مینڈیٹ کی واپسی یا ملک میں از سرنوشفاف غیر جانبدارانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ تمام باشعور ،غیور اور جمہوریت پسند عوام 8فروری 2026کے پہیہ جام اور شٹرڈائون ہڑتال کو کامیاب بنا نے کے لیے اپنا مثبت وتعمیری کرداد ادا کرے۔