کوئٹہ: امیرجماعت اسلامی بلوچستان ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کوامن دینے طاقت کااستعمال، بے عمل اعلانات،دھمکی کی نہیں حقوق دینے اورقومی مشاورت سے متفقہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ان ظالمانہ کی وجہ سے آج بھی بلوچستان بارودپرکھڑااورجل رہاہے۔
87ارب سالانہ بجٹ کھانے والے بلوچستان میں امن وامان کے ذمہ دار ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوادر میں مختلف وفودسے ملاقات کے دوران گفتگومیں کیا
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کامسئلہ سیاسی مگرطاقتورطبقات زورزبردستی گولی اورآپریشن سے حل کرناچاہتے ہیں بہت سے آپریشنزکرنے کے بعداب بھی یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ بن گیا ہے نوجوانوں مایوس اورغم وغصے کاشکارہیں۔
ظالمانہ اقدامات کی وجہ سے بارڈرز،ریلوے،تجارت،انٹرنیٹ،مین شاہراہیں بند ہیں بلوچستان کے عوام کوسہولیات،حقوق،نوجوانوں کو روزگار،تاجروں کیلئے بارڈرزکھولنے کے بجائے بندوق سے دبانے،آپریشن سے ڈرانے اورٹارچرکیے جارہے ہیں۔
جماعت اسلامی نے بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حصول امن اورترقی کیلئے ظلم جبر لاقانونیت کے خلاف اسمبلی کے اندراورباہرہرجگہ جدوجہد کیاہے کوئٹہ سے اسلام آباد ،،بلوچستان کوحقوق دو،،لانگ مارچ کیاقومی جرگے آل پارٹیز کیے آئندہ بھی ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔
اسلام آباد کے طاقتورطبقات کوبلوچستان کے عوام ومسائل اورپریشانیوں سے کوئی سروکار نہیں انہیں بلوچستان کے وسائل معدنیات ریکوڈک سیندک اورگوادرچاہیے وسائل کی ضرورت اسلام آباد کے حکمرانوں کو ہے
مسائل بلوچستان کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔بلوچستان کے وسائل یہاں کے عوام کی حالت بدلنے پرخرچ کرنے کی ضرورت ہے اگراسلام آباد کے حکمرانوں مقتدرقوتوں اسٹبلشمنٹ میں اخلاص ایمانداری ونیک نیتی ہوتوبلوچستان کے وسائل سے بلوچستان کے عوام کیساتھ پورے پاکستان کو فائدہ پہنچ سکتاہے۔
اسلام آباد کے حکمرانوں کوبلوچستان میں اشاروں پرچلنے والوں کی ضرورت ہے اسی لیے عوام کے حقیقی نمائندوں کے بجائے فارم47والے مسلط کیے گیے ہیں۔