|

وقتِ اشاعت :   February 8 – 2026

لاہور: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج تک بلوچستان کے عوام کی بات نہیں سنی گئی اور آج بھی وہ مجاہد بریلوی اور ڈاکٹر مالک کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے، تاہم اس مسئلے کا حل ان کے ہاتھ میں نہیں۔

عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن کے ہاتھ میں بلوچستان کے مسئلے کا حل ہے، وہ کہیں نظر نہیں آتے، شاید ان تک ہماری آواز نہ پہنچ رہی ہو۔کانفرنس کے موضوع “Is there political will to solve the crisis in Balochistan” کا حوالہ دیتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ will کے کئی مطلب ہوتے ہیں، جن میں خواہش، ارادہ اور وصیت شامل ہیں، اور بلوچستان اس وقت وصیت کے مرحلے تک پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجاہد بریلوی نے حبیب جالب کی نظم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان جل رہا ہے، مگر ان کے نزدیک بلوچستان جل کر راکھ ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں صرف گھر نہیں جلے، صرف زخم نہیں جلے بلکہ زندہ لاشیں جلائی گئیں۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ ابتدا میں سیاسی تھا، لیکن اس ملک کے حکمرانوں نے اس سیاسی مسئلے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کے بجائے فوجی طاقت اور جبر کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بندوق، ڈنڈا، عقوبت خانے اور جبری گمشدگیوں جیسے طریقے اختیار کیے گئے، اور طاقت کا بے دریغ استعمال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ آج صورتحال یہ ہے کہ وہ خود اور ڈاکٹر مالک جیسے رہنما اپنے علاقوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق نہ صرف باہر کے لوگ بلکہ بلوچستان کے اپنے باشندے، جو وہاں سیاست کرتے ہیں اور جن کے آباؤ اجداد کی قبریں وہاں موجود ہیں، وہ بھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں نہیں جا سکتے۔بلوچستان کی تاریخی حیثیت پر بات کرتے ہوئے سردار اختر مینگل نے کہا کہ ریاست قلات اور محمد علی جناح کے درمیان 27 مارچ 1948 کو ایک معاہدہ ہوا، جس کی دستاویزات موجود ہیں اور اس پر محمد علی جناح کے دستخط ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم بچپن سے یہ پڑھتے آئے ہیں کہ پاکستان 14 اگست 1947 کو وجود میں آیا، جبکہ ان دستاویزات میں 15 اگست 1947 درج ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب کوئی اپنی پیدائش کی تاریخ بدل دے تو اس سے کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 14 یا 15 اگست 1947 سے 27 مارچ 1948 تک کے سات ماہ میں بلوچستان نہ پاکستان کا حصہ تھا، نہ ہندوستان کا، نہ برطانوی راج کا، جس کا مطلب ہے کہ اس دوران بلوچستان ایک آزاد ریاست تھا۔

ان کے مطابق معاہدے میں بلوچستان کو ایک خودمختار ریاست قرار دیا گیا تھا اور صرف چند شعبے وفاق کے پاس رکھے گئے تھے، مگر ان معاہدات کا احترام نہیں کیا گیا۔سردار اختر مینگل نے کہا کہ بعد ازاں نواب نوروز خان اور عبد الکریم خان کے ساتھ بھی معاہدے کیے گئے، مگر قرآن شریف کا واسطہ دے کر پہاڑوں سے اتارنے کے بعد ان سے دھوکہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک کو طویل قید اور دوسرے کے سامنے ان کے بیٹوں اور رشتہ داروں کو پھانسی دی گئی۔انہوں نے کہا کہ 1970 کے انتخابات کے بعد بلوچستان میں نیشنل عوامی پارٹی کی حکومت قائم ہوئی، مگر نو ماہ بعد اس حکومت کو ختم کر دیا گیا، اور یہ اقدام کسی آمر کے دور میں نہیں بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے جمہوری دور میں ہوا۔جبری گمشدگیوں کے حوالے سے سردار اختر مینگل نے کہا کہ ان کے بھائی اسد اللہ مینگل کے کیس میں کمیشن نے یہ کہہ کر کیس ختم کر دیا کہ ان کا کوئی وارث نہیں، حالانکہ متعلقہ اداروں کو معلوم تھا کہ وہ کہاں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل تھا اور وہ اسی پاکستان میں موجود تھے۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے حوالے سے سردار اختر مینگل نے کہا کہ 2023 میں جب وہ بلوچستان سے لانگ مارچ کرتے ہوئے اسلام آباد پہنچیں تو نگراں حکومت نے ان کے ساتھ آئین کے مطابق نہیں بلکہ طاقت کے ذریعے سلوک کیا۔ انہوں نے کہا کہ سرد راتوں میں بلوچ بچیوں اور خواتین پر ٹھنڈا پانی پھینکا گیا، انہیں گرفتار کیا گیا اور اسلام آباد کے تھانوں میں بلوچ ماؤں اور بہنوں کی گرفتاری کا آغاز کیا گیا

۔انہوں نے کہا کہ بعد ازاں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، سمیت دین بلوچ اور دیگر خواتین کو کراچی اور کوئٹہ سے گرفتار کیا گیا، ان پر کئی ماہ تک ایم پی او کے مقدمات چلائے گئے، اور جب ان کی مدت ختم ہوئی تو ان پر انسداد دہشتگردی کی دفعات لگا دی گئیں۔

خطاب کے آخر میں سردار اختر مینگل نے 31 جنوری کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا پر یہ مناظر دیکھے گئے کہ جنہیں ریاست دہشتگرد کہتی ہے، عوام ان کے ماتھوں پر بوسہ دے رہے ہیں، انہیں گلے لگا رہے ہیں اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ سوال اہلِ پنجاب اور ریاستی اداروں کے لیے ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *