|

وقتِ اشاعت :   February 9 – 2026

کوئٹہ : سابق امیرجماعت اسلامی پاکستان وسابق سنیٹرسراج الحق نے کہاکہ موجودہ طرزِحکمرانی،نااہلی بدعنوانی،لاقانونیت کے ذمہ دارمقتدرقوتیں وفارم47کے حکمران ہیں۔

کرپشن،بدامنی اور ناانصافی نے پاکستان کا چہرہ مسخ کر دیاجماعتِ اسلامی متبادل نظام دے سکتی ہے بلوچستان کے عوام کو امن حقوق روزگاردیناوفاق وصوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے دورہ جعفرآباد کے دوران ڈیرہ اللہ یار میں مختلف تقاریب سے خطاب وفودسے ملاقات کے دوران گفتگو میں کیااس موقع پر جماعت اسلامی بلوچستان کے صوبائی نائب امیرپارلیمانی سیکرٹری انجینئر عبدالمجید بادینی،نائب امیر صوبہ بشیر احمد ماندائی ودیگر ذمہ داران بھی ان کے ہمراہ تھے۔

سراج الحق نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کوکرپشن، بدامنی، مہنگائی اور ناانصافی کی علامت بنادیا ہے،آج دنیا پاکستان کو ایک خوبصورت اسلامی ریاست کے بجائے بدعنوانی اور عدم استحکام کے تناظر میں جانتی ہے۔بلوچستان ایک خوبصورت گلدستہ ہے مگر بدقسمتی سے نااہل اور ظالم حکمرانوں نے اسے لہولہان کر دیا ہیدہشتگردی، بدامنی اور لاقانونیت کا خاتمہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،

مگر یہ صرف بیانات سے ممکن نہیں اس کے لیے مخلص،دیانتدار اور عوام دوست قیادت درکار ہیملک میں مظلوم تو موجود ہیں مگر مظلوم کے لیے انصاف کا کوئی نظام نہیں۔عوام مہنگائی،بے روزگاری اور غربت کے ہاتھوں پریشان ہیں جبکہ حکمران طبقہ پروٹوکول اور مراعات میں مصروف ہے۔ سراج الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے نوجوانوں کو روزگار سے محروم،مریضوں کو علاج سے اور بچوں کو تعلیم کے حق سے محروم کر دیا گیا ہے،

بلوچستان کے شہری علاج اور تعلیم کے لیے کراچی اور دیگر شہروں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں۔

نوجوانوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ بندوق کے بجائے قلم اور کتاب کو اپنائیں کیونکہ علم ہی مسائل کا واحد حل ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور خاندانی سیاست سے پاک جماعت ہے اور غریب، کسان اور مزدور کی نمائندہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعتِ اسلامی کے پاس قرآن پر مبنی عدل، انصاف اور مساوات کا متبادل نظام موجود ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکال سکتا ہے۔اصل عوامی نمائندہ وہی ہوتا ہے جو اقتدار کے باوجود عوام کے درمیان بیٹھے۔اگر عوام کے گھروں میں اندھیرا ہو تو حکمرانوں کے گھروں میں بھی اندھیرا ہونا چاہیے، یہی اصل انقلابی اور اصلاحی نظام ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *