کوئٹہ: بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر و دیگر سینئر صحافیوں نے کہا ہے کہ صحافیوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تربیت حاصل کرنی ہوگی تاکہ معیاری اور ذمہ دارانہ صحافت کو جاری رکھا جاسکے۔ صحافیوں کی تربیت کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ میڈیا کو خواتین کے حقوق، بلدیاتی نظام کی مضبوطی اور شہری مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر اجاگر کرنا چاہیے تاکہ عوامی مسائل کے حل کی راہ ہموار ہو۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیلتھ اینڈ رورل ڈویلپمنٹ (HARD) بلوچستان کی جانب سے کوئٹہ میں صحافیوں کے ساتھ میڈیا انگیجمنٹ آن جینڈر اینڈ وومن رائٹس کے موضوع پر منعقدہ سیشن کے دوران شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، سیشن میں شہر بھر سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیشن میں خواتین کے حقوق، بلدیاتی نظام اور میڈیا کے کردار پر سیر حاصل گفتگو کی گئی جبکہ مقررین نے جمہوری عمل میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کو خوش آئند قرار دیا۔سیشن کے دوران ہیڈ پروگرام ہارڈ بلوچستان ضیا بلوچ نے تنظیم کی کارکردگی اور مقاصد پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور اس میں کی جانے والی ترامیم پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان میں خواتین کی سیاسی نمائندگی محدود تھی اور وہ زیادہ تر مخصوص نشستوں تک ہی محدود رہتی تھیں، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ حالات میں مثبت تبدیلی آئی ہے اور اب خواتین نہ صرف بلدیاتی بلکہ صوبائی اور قومی سطح پر براہ راست انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ میں خواتین کی شمولیت میڈیا اور سول سوسائٹی کی مسلسل جدوجہد کا نتیجہ ہے۔
اس موقع پر صدر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس منظور احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ رپورٹنگ کا آغاز سماجی و شہری مسائل سے ہوتا ہے اور موجودہ حالات میں جب سنسرشپ جیسے چیلنجز درپیش ہیں تو صحافیوں کیلئے سماجی موضوعات کو اجاگر کرنا ناگزیر ہوچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان یونین آف جرنلسٹس سنسرشپ کے خلاف بھرپور مزاحمت کر رہی ہے اور آزادی صحافت کے تحفظ کیلئے اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے۔
منظور احمد کا کہنا تھا کہ روزگار کو محفوظ بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ صحافی خود کو دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ کریں۔
آج کے دور میں صحافی کو ہر شعبے پر کمانڈ حاصل ہونی چاہیے جبکہ مصنوعی ذہانت (اے آئی)اور ڈیجیٹل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر پیشہ ورانہ تربیت ناگزیر ہوچکی ہے۔سینئر صحافی سلیم شاہد نے کہا کہ صحافت ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے اور صحافیوں کو شہری مسائل، خصوصا پانی، صفائی، صحت، تعلیم اور ٹریفک جیسے بنیادی معاملات پر خصوصی توجہ دینی چاہیے کیونکہ یہی مسائل براہ راست عوام کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے تحقیقاتی اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میڈیا کو کمزور اور پسماندہ طبقات کی آواز کو مثر انداز میں اجاگر کرنا چاہیے۔قبل ازیں سینئر صحافی ظفر بلوچ نے بلدیاتی نظام کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تاخیر اور دیگر انتظامی مسائل کو میڈیا کو موثر انداز میں اجاگر کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل ان کی دہلیز پر اسی وقت حل ہوسکتے ہیں جب بلدیاتی نظام مضبوط اور فعال ہوگا اور اس مقصد کے حصول میں میڈیا کا کردار فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔سیشن کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ بلوچستان میں خواتین کے حقوق، بلدیاتی نظام کی مضبوطی اور سماجی مسائل کے حل کیلئے ذمہ دارانہ اور موثر صحافت کو فروغ دیں گے۔
Leave a Reply