|

وقتِ اشاعت :   February 19 – 2026

کوئٹہ :  بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر سینیٹر نصیب اللہ خان بازئی نے کہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، شہری پھیلاؤ اور عوامی ضروریات کے پیشِ نظر یہ امر نہایت اہم ہو چکا ہے کہ شہر کے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔

اسی تناظر میں کوئٹہ کو لسانی یا نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی بنیادوں پر چار اضلاع میں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی جاتی ہے، تاکہ گورننس کو مزید موثر، منظم اور عوام دوست بنایا جا سکے۔

اپنے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ اقدام کسی بھی قسم کی تفریق یا تقسیم کا نہیں، بلکہ بہتر نظم و نسق، تیز تر خدمات کی فراہمی اور مضبوط سیکورٹی نظام کی جانب ایک مثبت، تعمیری اور دور اندیش قدم ہوگا۔ مزید برآں، کوئٹہ کے مضافاتی اور نواحی علاقے، جو مجموعی آبادی کا تقریباً 50 سے 60 فیصد حصہ رکھتے ہیں اور آج بھی صحت، تعلیم، گیس، بجلی، صاف پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، اس انتظامی اصلاح کے ذریعے خصوصی توجہ اور منظم ترقی کے مستحق ہوں گے، تاکہ شہری و دیہی تفاوت کو کم کیا جا سکے۔

متوقع فوائد امن و امان میں نمایاں بہتری چھوٹے اور مربوط انتظامی یونٹس کی بدولت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی رسائی، نگرانی اور فوری رسپانس مزید موثر ہوگا، جس سے حالیہ دہشتگردی کے رجحانات کی روک تھام اور جرائم پر قابو پانے میں نمایاں مدد ملے گی۔بہتر سروس ڈیلیوری پانی، صفائی، سیوریج، صحت، تعلیم، گیس اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی زیادہ منظم، شفاف اور تیز رفتار ہوگی، خصوصاً ان علاقوں میں جو طویل عرصے سے محرومی کا شکار ہیں۔

ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور رفتار ہر ضلع میں علیحدہ انتظامی ڈھانچہ ترقیاتی کاموں کی بہتر نگرانی، فنڈز کے موثر استعمال اور بروقت تکمیل کو یقینی بنائے گا۔ عوامی مسائل کا مقامی حل شہریوں کو اپنے مسائل کے حل کے لیے قریبی سطح پر آسان رسائی اور فوری ریلیف میسر آئے گا، جس سے عوام اور انتظامیہ کے درمیان اعتماد میں اضافہ ہوگا۔

میں، بحیثیت مرکزی سینئر نائب صدر بلوچستان عوامی پارٹی، مودبانہ گزارش کرتا ہوں کہ کمانڈر 12 کور بلوچستان لیفٹیننٹ راحت نسیم،گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل،اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی صوبے کے وسیع تر مفاد، عوامی سلامتی اور پائیدار ترقی کے پیشِ نظر اس تجویز پر سنجیدگی سے غور فرمائیں اور متعلقہ اداروں کو عملی اقدامات کی ہدایت جاری کریں۔ہمیں یقین ہے کہ باہمی مشاورت، مثبت سوچ اور مضبوط عزم کے ساتھ یہ اقدام کوئٹہ کو ایک پرامن، منظم اور ترقی یافتہ شہر بنانے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔یہ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے آج ایسے فیصلے کریں جو آنے والی نسلوں کے لیے آسانیاں، تحفظ اور خوشحالی کا ذریعہ بنیں گے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *