کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کی آمد کے موقع پر مہنگائی، غربت اور بے روزگاری نے غریب اور کم آمدنی والے افراد کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔
حکومت بلند و بانگ دعوؤں کے بجائے عملی اقدامات کرے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مؤثر حکمت عملی اختیار کرے۔مخیرحضرات یتیموں کی کفالت غرباء ومساکین کی مدد،طلباء کوہنرمندبنانے کیلئے الخدمت فاؤنڈیشن کاساتھ دیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ میں مختلف وفود سے ملاقاتوں کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ رمضان المبارک رحمت، برکت اور غم خواری کا مہینہ ہے، لیکن بدقسمتی سے ہر سال اس بابرکت مہینے سے قبل اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کر دیا جاتا ہے،
جس سے عام آدمی کی زندگی مزید دشوار ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی مہنگائی کا سختی سے نوٹس لے اور پرائس کنٹرول میکنزم کو مؤثر بنائے۔
انہوں نے تاجروں اور دکانداروں سے اپیل کی کہ وہ اس مقدس مہینے میں زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے بجائے رضائے الٰہی اور دکھی انسانیت کی خدمت کو ترجیح دیں۔
انہوں نے کہا کہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا کرنا نہ صرف قانونی جرم ہے بلکہ اخلاقی اور دینی اعتبار سے بھی قابل مذمت عمل ہے۔
تاجر برادری رمضان المبارک میں خصوصی رعایتی پیکجز کا اعلان کرے اور اشیائے ضروریہ مناسب نرخوں پر فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے مزید کہا کہ صاحبِ حیثیت افراد اور مخیر حضرات کو چاہیے کہ وہ صدقہ و خیرات،زکوٰۃ اور فطرانے کے ذریعے مستحق خاندانوں کی بھرپور مدد کریں تاکہ کوئی بھی غریب خاندان سحری و افطاری سے محروم نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مہینہ ہمیں ایثار، ہمدردی اور بھائی چارے کا درس دیتا ہے، لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی استطاعت کے مطابق ضرورت مندوں کا سہارا بنیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت سرکاری سطح پرحقیقی سستے رمضان بازار قائم کرے،
اسٹورز پر اشیائے ضروریہ کی وافر فراہمی یقینی بنائے اور ضلعی انتظامیہ کو متحرک کرے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف مل سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مہنگائی پر قابو نہ پایا گیا تو عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔
Leave a Reply