کوئٹہ: امیر جمعیت علمائے اسلام بلوچستان سینیٹر مولانا عبدالواسع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی بلوچستان کے عوام بدترین مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی ابتری کا شکار ہیں، جو صوبائی حکومت کی ناقص حکمرانی کا کھلا ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی حالت زار اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ رہے ہیں اور سفید پوش طبقہ شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اشیائے خوردونوش اور روزمرہ ضروریات کی قیمتیں بے قابو ہو چکی ہیں۔ عوام کی قوتِ خرید تقریباً ختم ہو کر رہ گئی ہے جبکہ حکومتی سطح پر نہ کوئی مؤثر پالیسی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی ریلیف کا کوئی عملی بندوبست۔
حکومت کی کارکردگی محض بیانات، دعوؤں اور نمائشی اقدامات تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کر رہے ہیں۔سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال غیر مستحکم ہے، بے روزگاری عروج پر ہے، سرحدی تجارت کی بندش نے ہزاروں خاندانوں کو معاشی بحران میں دھکیل دیا ہے اور زراعت بدترین زوال کا شکار ہے۔ کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہیں اور نوجوان طبقہ شدید مایوسی میں مبتلا ہے۔
ایسے میں حکومتی کارکردگی پر سوال اٹھانا ہر باشعور شہری کا حق ہے۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری تھی، مگر عملی طور پر کوئی جامع اور ٹھوس اقدام سامنے نہیں آیا۔ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے رسمی اعلانات اور کاغذی دعوؤں پر اکتفا کیا جا رہا ہے، جو عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام کے عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کر کے جو سیاسی سیٹ اپ قائم کیا گیا، اس کے نتائج آج صوبے کی کمزور گورننس، بدانتظامی اور بڑھتے ہوئے بحرانوں کی صورت میں ظاہر ہو رہے ہیں۔ عوامی رائے کو مسترد کرنے کا انجام ہمیشہ عدم استحکام کی شکل میں سامنے آتا ہے اور بلوچستان اس وقت اسی کیفیت سے دوچار ہے۔
Leave a Reply