کوئٹہ : بلوچستا ن ہائی کورٹ کے چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا ہے کہ میرٹ کو معیار بنایا جائے تو ہماری بہت سے مشکلات جلد کم ہوجائیں گی۔
یہ بات انہوں نے جمعہ کو ہائی کورٹ بارایسوسی ایشن کی جانب سے اپنے و دیگر ججزاور وکلا کے اعزاز میں دئیے گئے افطار عشائیہ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر ہائی کورٹ بار کے صدر میر عطا اللہ لانگو اور نجیب الدین آغا نے بھی خطاب کیا۔چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ میرے قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کے حلف لینے کے فوری بعد میاں عطا رف اور میر عطا اللہ لانگو کی قیادت میں بار ایسوسی ایشن کے ساتھی میرے پاس تشریف لائے تھے اور اصرار کیا تھا کہ وہ میرے اعزاز میں ایک ویلکم پارٹی دیں گے جس پر میں نے ان سے معذرت کی تھی پھر جب بطور مستقل چیف جسٹس کے منصب کا حلف اٹھایا تو اتفاق سے تعطیلات شروع ہوگئی تھیں اکثر وکلا اور بہت سے ججز صاحبا ن موجود نہیں تھے۔
انہوں نے ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر میر عطا اللہ لانگو اورمیاں عطا رف اور ان کے رفقا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ مجھ پر اللہ کی مہربانی ہے کہ میں افطاری کے وقت آپ سے مخاطب ہوں اور یہ ایک ایسا وقت ہے
جب اللہ پاک دعا کو قبول فرماتے ہیں اس کو ایک بہت ہی سعادت مند ساعت سمجھا جاتا ہے، انہوں نے کہاکہ میرے لیے استقامت کی دعا کریں کہ اللہ تعالی مجھے توفیق عطا کرے کہ اپنے ادارئے، صوبے، عوام، وکلا، جوڈیشل افسران کی خدمت کرسکیں، انہوں نے کہاکہ دہشتگردی سے متاثرہ عدالتوں کی بحالی کا کام شروع ہواہے اور عید کے فورا بعد ان کو فعال کیا جائے گا، جوڈیشنل افسران کی بہت سی آسامیاں خالی پڑی ہیں عید کے فورا بعد جوڈیشنل بورڈ بناکر جوڈیشنل افسران کی اسامیوں کا اعلان کیا جائیگا،میرٹ کی بنیاد پر تعیناتیاں کی جائیں گی۔
Leave a Reply