|

وقتِ اشاعت :   4 days پہلے

امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جارحانہ حملے شروع کردئیے ہیں، ہفتے کے روز سے دونوں ممالک نے غیر معمولی آپریشن کے دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت دیگر سرکاری و عسکری حکام کو شہیدکردیاجبکہ عام شہریوں کی شہادتیں بھی ہوئیں ہیں ۔امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کارروائیاں اب بھی جاری ہیں جبکہ ایران نے دفاع میں مشرق وسطیٰ خاص کر خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا اور اسرائیل پر بھی حملے جاری ہیں ۔

خطے میں اس وقت انتہائی غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے طاقت کے مظاہرے میں مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بڑی جنگ کی لپیٹ میں ہے امریکہ اور اسرائیل کا واضح مقصد ایران میں رجیم چینج کے ساتھ خطے میں اپنے اثر و نفوذ کو مزید بڑھانا ہے تاکہ وہ یہاں وہ اپنا مضبوط کنٹرول کرسکیں۔

یہ بات انتہائی اہم ہے کہ ایران میں امریکہ اور اسرائیل اپنے مقاصد میں کامیاب ہوں گے؟ ایران میں رجیم چینج آسانی سے ہوگی جو کہ اتنا آسان دکھائی نہیں دے رہا۔ بہرحال مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھنے کا خطرہ ہے خوفناک جنگ کے مزید طول اختیار کرنے کے امکانات ہیں جو بڑی تباہی کا سبب بنے گا۔اتوار کی صبح ایران کے سرکاری ٹی وی نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی تصدیق کی جس سے ایران کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں اور خطے میں عدم استحکام کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند گھنٹے قبل ان کی شہادت کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے ایرانی عوام کو اپنا ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع ملا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق 86 سالہ سپریم لیڈر تہران کے وسط میں واقع اپنے کمپاؤنڈ میں ہونے والے فضائی حملے میں شہید ہوئے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں اس مقام کو شدید بمباری کے بعد تباہ حال دِکھایا گیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ادارے نے رپورٹ کیا کہ سپریم لیڈر کے اعلیٰ مشیر علی شمخانی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور بھی شہید ہو ئے ہیں۔ سرکاری ٹی وی نے کہا کہ ان کی اپنے دفتر میں شہادت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے رہے، اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں پیش پیش رہے اور اْس چیز کا ڈٹ کر سامنا کرتے رہے جسے حکام عالمی تکبر سے تعبیر کرتے ہیں۔

ایرانی حکومت نے 40 روزہ سوگ اور 7 دن کی عام تعطیل کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی کابینہ نے خبردار کیا ہے کہ اس سنگین جرم کا ہر حال میں بھرپور اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب نے بھی کہا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر سخت، فیصلہ کن اور دشمن کے لیے پچھتاوا بن جانے والی سزا دی جائے گی۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ایران انفراسٹرکچر دوبارہ بنا رہا تھا۔ ایران یورینیم افزودگی کی جدید مشینیں بنانے کی صلاحیت حاصل کر چکا تھا جو ہتھیار بنانے کے لیے درکار افزودہ یورینیم تیار کرنے کے اہم مراحل میں سے ایک ہے۔ایران نے حالیہ حملوں کے جواب میں اسرائیل کی جانب میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے داغے اور بحرین، کویت اور قطر میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ اسرائیل نے کئی میزائل مار گرانے کا دعویٰ کیا۔ اسرائیل کی فوج نے کہا کہ اس نے مرکزی ایران میں میزائل لانچرز اور فضائی دفاعی سسٹمز پر نئے حملے شروع کر دئیے ہیں۔مقامی گورنر نے ایران کے سرکاری ٹی وی کو بتایا کہ جنوبی ایران میں لڑکیوں کے سکول پر ہونے والے حملے میں کم از کم 115 افراد شہید جبکہ درجنوں دیگر زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے کہا کہ وہ لڑکیوں کے ایک اسکول پر حملے سے متعلق رپورٹس سے آگاہ ہیں اور حکام اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیاء کی بڑی بین الاقوامی ایئرلائنز نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیانات پر کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جاری حملوں اور اس کے نتیجے میں فضائی حدود کی بندش کے بعد متعدد پروازیں معطل، منسوخ یا متبادل راستوں پر منتقل کر دی گئی ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ایرانی پاسدان انقلاب نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کردیاہے۔ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے پیغام دیا ہے کہ اس وقت کسی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت نہیں ہے۔

آبنائے ہرمز سے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور ایران سے یومیہ تقریباً 21 ملین بیرل تیل دیگر ممالک کو پہنچایا جاتا ہے، ان ملکوں میں پاکستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، یورپ، شمالی امریکا اور دنیا کے دیگر ممالک شامل ہیں۔

اس آبی گزرگاہ سے دنیا کے 20 فیصد تیل اور 30 فیصد گیس کی ترسیل ہوتی ہے، یہاں سے روزانہ تقریباً 90 اور سال بھر میں 33 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز مشرقِ وسطیٰ کے خام تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ایشیاء ، یورپ، شمالی امریکا اور دیگر دنیا سے جوڑتی ہے، اس سمندری پٹی کے ایک طرف امریکا کے اتحادی عرب ممالک تو دوسری طرف ایران ہے۔

33 کلومیٹر چوڑی اس سمندری پٹی سے دو شپنگ لینز جاتی ہیں، ہر لین کی چوڑائی 3 کلو میٹر ہے، جہاں سے بڑے آئل ٹینکرز گزرتے ہیں۔ مجموعی عالمی تیل کی رسد کا پانچواں حصہ یعنی 20 فیصد اسی راستے سے جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز کے ایک طرف خلیج فارس اور دوسری طرف خلیج عمان ہے، خلیج فارس کے اندر 8 ممالک ایران، عراق، کویت، سعودی عرب، بحرین، قطر، یو اے ای اور عمان موجود ہیں۔ دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین معیشت کی روانی کے لیے خلیج سے اپنی ضرورت کا آدھا تیل منگواتا ہے، جبکہ جاپان 95 فیصد اور جنوبی کوریا 71 فیصد تیل اسی راستے سے درآمد کرتے ہیں۔

آبنائے ہرمز سے ہی یہ تینوں ممالک خلیجی ممالک کو گاڑیاں اور الیکٹرانک سامان کی ترسیل بھی کرتے ہیں۔ بہرحال امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر مسلم ممالک، روس، چین اقوام متحدہ کی جانب سے مذمت اور شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور اس خدشے کا بھی اظہار کیاگیا ہے کہ اس غیر معمولی اقدام سے عالمی امن کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس سے بڑی تباہی کے راستے کھلیں گے۔ اگر اس جنگ کو فوری طور پر نہ روکا گیااور امریکہ و اسرائیل نے حملے بند نہ کئے تو یقینا یہ جنگ مزید شدت اختیار کرے گی جوسب کے لیے خوفناک نتائج کا سبب بنے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *