|

وقتِ اشاعت :   4 days پہلے

صدر ٹرمپ نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے اینکر جیک ٹیپر سے فون پر نو منٹ بات کی اور کہا کہ ایران کے خلاف آپریشن کی سب سے بڑی لہر ابھی آنا باقی ہے۔

ٹرمپ نے انھیں بتایا کہ ’ہم ان کی حالت خراب کر رہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ یہ بہت اچھا جا رہا ہے۔ یہ بہت طاقتور ہے۔ ہمارے پاس دنیا کی سب سے عظیم فوج ہے اور ہم اسے استعمال کر رہے ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم نے ابھی تک ان پر سخت حملے شروع بھی نہیں کیے۔ بڑی لہر ابھی نہیں آئی۔ اصل بڑا حملہ جلد آنے والا ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ جنگ کتنی طویل ہو سکتی ہے تو امریکی صدر نے کہا تقریباً ایک ماہ۔ امریکی صدر نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ یہ زیادہ دیر تک چلے۔ میں ہمیشہ سمجھتا تھا کہ یہ چار ہفتے ہوں گے۔ اور ہم شیڈول سے کچھ آگے ہیں۔‘

ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران کے جوابی حملے پڑوسی عرب ممالک جیسے قطر اور متحدہ عرب امارات پر سب سے بڑا ’سرپرائز‘ ثابت ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان حملوں پر ’ہم حیران ہوئے۔‘ ٹرمپ کے مطابق ’ہم نے انھیں (مشرق وسطی کے اتحادیوں کو) بتایا تھا کہ یہ ہمارے قابو میں ہے اور اب وہ لڑنا چاہتے ہیں۔ اور وہ جارحانہ انداز میں لڑ رہے ہیں۔ وہ اس تنازع میں بہت کم ہی شامل ہونا چاہتے تھے مگر اب وہ اصرار کر رہے ہیں کہ شامل رہیں۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *