کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے ماہر قانون علی مجتبی بادینی ایڈوکیٹ کی نیشنل پارٹی میں شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیشنل پارٹی متوسط طبقے کی منظم اور فکری جماعت ہے جس میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہیں۔
علی مجتبی بادینی ایڈوکیٹ کی شمولیت سے پارٹی کا لائر ونگ مزید مضبوط اور منظم ہوگا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے علی مجتبی بادینی ایڈوکیٹ کی شمولیت کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے نیشنل پارٹی کے مرکزی نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، معروف دانشور و افسانہ نگار آغا گل، صوبائی جنرل سیکرٹری ایڈوکیٹ چنگیز حئی بلوچ، ایڈوکیٹ جلیل لانگو اور انیل غوری نے بھی خطاب کیا۔ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ نیشنل پارٹی آئین کی بالادستی، حقیقی جمہوریت اور حقیقی وفاقیت پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی کے اندر اداروں کی بالادستی قائم ہے اور نیشنل پارٹی اجتماعی قیادت و اجتماعی فیصلوں کے اصول پر کاربند ہے، اسی لیے پارٹی کے تمام فیصلے جمہوری طریقہ کار کے مطابق کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں عوام نے اپنی رائے نیشنل پارٹی کے حق میں دی، بالخصوص کوئٹہ کے عوام نے پارٹی کو بھرپور پذیرائی دی اور اپنے حقِ رائے دہی کو نیشنل پارٹی کے امیدواروں کے حق میں استعمال کیا، جو عوام کے پارٹی کی پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار ہے۔نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ غیر جمہوری عناصر ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ عوام سیاست سے لاتعلق رہیں تاکہ وہ سیاسی شعور سے دور اور اپنے قومی حقوق و حاکمیت سے بیگانہ رہیں۔
اس لیے سیاسی کارکنوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سنجیدگی اور بردباری کے ساتھ جمہوری و سیاسی عمل کو جاری رکھیں۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت میں تنظیم بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ متحرک اور ڈسپلن پر مبنی تنظیم ہی مضبوط سیاسی جماعت کی پہچان ہوتی ہے اور یہی کارکنوں کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے۔ اس لیے پارٹی کارکنان تنظیمی عمل کو مضبوط بنانے میں کوئی کوتاہی نہ کریں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی مجتبی بادینی ایڈوکیٹ نے نیشنل پارٹی میں شمولیت کو پارٹی کی شعوری اور جمہوری سیاست اور ایڈوکیٹ چنگیز حئی بلوچ، ایڈوکیٹ جلیل لانگو اور عنایت بزدار کی کاوشوں کا نتیجہ قرار دیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ نیشنل پارٹی کو مزید منظم اور متحرک بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
Leave a Reply