|

وقتِ اشاعت :   21 hours پہلے

کوئٹہ :  گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ اس خطے میں بولی جانے والی مختلف قومی زبانیں محض اظہار کا ایک ذریعہ نہیں ہیں

بلکہ یہ وہ دھاگے ہیں جو ہزاروں سال کے تہذیبی سفر پر مشتمل کسی قوم کے اجزا ترکیبی اور ثقافتی ورثے کو اکٹھے رکھتے ہیں، ہماری شاندار اقدار و روایات کو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کرتے ہیں۔ بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی کے وسیع لسانی تنوع کے فروغ اور تحفظ کیلئے وقف اکیڈمیوں کے ذریعے پرعزم ہے۔

ہم ان سے وابستہ لکھاریوں اور ماہرین لسانیات کی رضاکارانہ خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ہماری تاریخی اور تہذیبی شناخت کو متحرک اور زندہ رکھتے ہوئے ہماری مادری زبانوں کے تحفظ اور فروغ کیلئے بیلوث اقدامات اٹھاتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں گورنر ہاس کوئٹہ میں بلوچی ، پشتو ، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیز کے عہدیداروں پر مشتمل وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنربلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ میرے چالیس سالہ سیاسی کیریئر میں ہمارے خاندان کا ادبی اکیڈمیز، لیٹریری سوسائٹیز اور علمی مراکز کے ساتھ گہرا تعلق رہا ہے ، وقتا فوقتا ان کی مالی معاونت کی ہے، ان کے منعقدہ پروگراموں باقاعدہ شرکت کرتیہیں اور جب بھی انہیں مسائل کا سامنا ہوا ہے تو ان کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون بھی فراہم کرتے ہیں۔ یہ ایک شراکت داری ہے جسکی جڑیں باہمی احترام اور علم و ثقافت کیلئے مشترکہ جذبہ ہے۔

قبل ازیں بلوچی، پشتو، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیز کے عہدیداروں پر مشتمل وفد نے گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل کو صوبائی کابینہ کی جانب سے بلوچستان لینگویجز ، اکیڈمیز اینڈ سوسائٹیز ایکٹ 2025 کے حوالے سے اپنے تحفظات اور مطالبات سے آگاہ کیا۔ گورنر جعفرخان مندوخیل نے ان کے مسائل کو غور اور توجہ سے سنا اور ان کے دیرپا حل کیلئے اپنے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *