کوئٹہ: موجودہ صوبائی حکومت کی تعلیم دوستی و تعلیم سب کیلئے اور صوبہ بھر کے طلباء و طالبات کیلئے معیاری درسی کتب حکمہ ثانوی تعلیم بلوچستان نے تعلیمی سال 2026ء کے لیے درسی کتب کی ترسیل اور اشاعت میں ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔
بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے درسی کتب کی 90 فیصد سے زائد کتب کامیابی کے ساتھ مکمل کرکہ لاہور سے کوئٹہ پہنچا دی گئی ہے، جو گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی مقررہ وقت سے پہلے مرحلے میں صوبے کے چھتیس (36) اضلاع کو مفت فراہم کی گئی ہیں ان خیالات کا اظہار کا صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے زیر اہتمام درسی کتب بڑے مفت تقسیم تعلیمی سال 2026 کے افتتاح کے موقع پر منعقدہ تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا اس موقع پر سیکرٹری ثانوی تعلیم لعل جان جعفر،اسپشل سیکٹرٹری ثانوی تعلیم سلام خان اچگزئی، چیرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان خلجی، ڈائریکٹر سکولز اختر کھتران، سیکرٹری بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر نیاز ترین، ڈائریکٹر بی ای ایم آئی ایس نعمت اللہ کاکڑ دیگر علی افسران نے شرکت کی صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے کہا کہ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ نے پرنٹنگ ٹینڈرز کے عمل میں مکمل شفافیت کو یقینی بناتے ہوئے صوبائی خزانے کو تقریباً ایک ارب 25 کروڑ روپے کی خطیر بچت فراہم کی گئی ہے۔
یہ تمام اقدامات وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز خان بگٹی اور صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی کے وژن اور سیکرٹری محکمہ تعلیم لعل جان جعفر کی واضح ہدایات کی روشنی میں عمل میں لائے گئے۔چیئرمین بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ ڈاکٹر گلاب خان خلجی نے گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نہ صرف درسی کتب کی اشاعت کی لاگت میں نمایاں کمی کی بلکہ 1977ء کی دہائی کے پرانے نصاب کو مکمل طور پر تبدیل کرتے ہوئے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نیا نصاب متعارف کروایا۔ یہ کامیابی بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے افسران اور عملے کی محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔محکمہ کی رپورٹ کے مطابق تعلیمی سال 2023-24 میں 92 لاکھ 54 ہزار 625 درسی کتابیں 2 ارب 12 کروڑ 46 لاکھ روپے کی لاگت سے شائع کی گئیں، جبکہ 2024-25 میں 93 لاکھ 9 ہزار کتابوں کی اشاعت پر 1 ارب 8 کروڑ 66 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔
اس کے برعکس 2025-26ء میں ایک کروڑ 28 لاکھ درسی کتابیں محض 88 کروڑ 31 لاکھ روپے میں تیار کی گئیں، جو غیر معمولی بچت کی عکاس ہے۔اعداد و شمار کے مطابق رواں برس کتابوں کی اشاعت 0.65 پیسہ فی صفحہ کے حساب سے ممکن بنائی گئی، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں کم ترین لاگت ہے۔ مثال کے طور پر خیبر پختونخوا میں یہی لاگت 0.79 پیسہ فی صفحہ رہی۔اسکول ڈائریکٹوریٹ کے مطابق رواں تعلیمی سال کے لیے ایک کروڑ 28 لاکھ کتابوں کی ڈیمانڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 35 لاکھ زیادہ ہے۔
اس اضافے کی بنیادی وجہ صوبائی حکومت کی جانب سے تقریباً 4 ہزار سے زائد بند اسکولوں کی بحالی اور 10 ہزار سے زائد نئے اساتذہ کی بھرتی ہے۔نیشنل کریکلم آف پاکستان 2022-23 کے تحت پرائمری سے انٹرمیڈیٹ سطح تک نئے نصاب کے مطابق درسی کتب تیار کر لی گئی ہیں۔ نصاب میں ناظرہ و ترجمہ قرآن، کمپیوٹر ایجوکیشن اور سپلیمنٹری لرننگ مٹیریل جیسے ماحولیات و موسمیاتی تبدیلی، صحت و جسمانی تعلیم، شہریت اور اخلاقیات اور آرٹفیشل انٹیلیجنس کو شامل کیا گیا ہے۔تمام درسی کتب کو ایس او پیز کے مطابق انٹرنل اور پروونشل ریویو کمیٹیوں کے ذریعے جانچا گیا، جبکہ سیکرٹری تعلیم کی ہدایت پر اضافی دو سطحی جائزہ بھی لیا گیا۔محکمہ تعلیم کے مطابق آئندہ برس انگلش میڈیم کتب کو ترجیحی بنیادوں پر شائع کیا جائے گا،
جبکہ معیار میں مزید بہتری کے لیے بکس بورڈ کے بجائے بلیچ کارڈ پیپر استعمال کیا جائے گا۔مزید بتایا گیا کہ غیر ضروری مواد کو کم کرکے نصاب کو اس انداز میں مرتب کیا گیا ہے کہ اساتذہ اور طلبہ سالانہ کورس بروقت مکمل کر سکیں اور طلبہ پر اضافی تعلیمی بوجھ نہ پڑے۔ شفاف ٹینڈرنگ، کم لاگت اور بہتر معیار پر مبنی اس ماڈل کو آئندہ بھی جاری رکھا جائے.
Leave a Reply