|

وقتِ اشاعت :   8 hours پہلے

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات اور گیس کا شدید بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

قطر کی جانب سے گیس برآمدات پر فورس میجر کے نفاذ اور آئل سپلائی چین متاثر ہونے سے عالمی مارکیٹ میں قلت کا امکان ہے۔ پاکستان کے پاس اس وقت صرف 25 دن کا ایندھن اسٹاک میں موجود ہے۔

پاکستان میں آئل مارکیٹنگ کمپنیز کے پاس 25 دن کا ایندھن ذخیرہ ہے جبکہ حالیہ صورتحال کے پیش نظر ذخیرہ بڑھانے کی کوششیں جاری ہیں۔

قطر کے گیس برآمدات پر فورس میجر نافذہونے سے عالمی مارکیٹ میں قلت اور پاکستان کی گیس سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان روزانہ 1 لاکھ 45 ہزار بیرل پٹرول، 90 ہزار بیرل ڈیزل اور 2 لاکھ بیرل کروڈ آئل درآمد کرتا ہے جس میں خلل پڑنے سے قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

ایندھن کی سپلائی متاثر ہونے پر کمپنیوں نے پیٹرول پمپس کو تیل کی فراہمی محدود کر دی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق سعودی عرب اور ایڈناک سے ایندھن کے جہاز حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ ملک میں بحران کو روکا جا سکے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے ذرائع کے مطابق جنگی حالات کے خاتمے تک پاکستان کو قطر سے ایل این جی نہیں ملے گی۔

ذرائع پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق قطرگیس نے پاکستان کو گیس کی عدم سپلائی کے بارے میں آگاہ کردیا ہے۔

مارچ کے لیے قطر سے 8 ایل این جی کارگوز آنے تھے، صرف 2 ہی آئے۔ ایل این جی کے بقیہ 6 کارگو مارچ کو آنے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موجود ایل این جی کی لوڈ منیجمنٹ کرنی پڑے گی، 20 سے21 مارچ تک لوڈ منیجمنٹ کرکے ایل این جی دستیاب رہ سکتی ہے۔

پاکستان میں صنعتی سیکٹر سمیت دیگر شعبوں کو ایل این جی سپلائی متاثر ہوگی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر تجارت جام کمال نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ قطر سے ایل این جی آنی ہے اور وہ قطر سے ہی آئے گی، تاہم فیول کے متبادل آپشنز ضرور موجود ہیں۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ برآمدات اور درآمدات کی ذمہ داری شپنگ لائنز کی ہے، انہیں ذمہ داری پوری کرناہوگی۔

کنٹینرز کے رسک انشورنس اور دیگر اخراجات کے باعث کچھ منفی اثرات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں، پورا خطہ متاثر ہوا ہے، یہ ریجن ٹریڈ اور انرجی سپلائی کا اہم روٹ ہے، خلیجی ممالک سے انرجی وسائل پر انحصار رکھنے والے ممالک بھی متاثر ہوں گے۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ اس ریجن میں گڈز اور شپمنٹ کو پہلے کافی سہولت حاصل تھی، انشورنس اور لاجسٹک اخراجات میں اضافے کے اثرات اب نظرآنا شروع ہوگئے ہیں،کچھ چیزوں کے متبادل انتظامات ممکن ہیں، تاہم کچھ معاملات ہمارے اختیار میں نہیں۔

دوسری جانب پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسمیع خان نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول پمپس پر قلت ہونا شروع ہو گئی ہے، دوسری جانب حکومت نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالسیمع خان نے کہا کہ ملک میں پیٹرول کی طلب میں اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی اور ٹیکسز ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں مزید اضافہ نہ کیا جائے، اس سے غریب، موٹر سائیکل سوار طبقہ شدید متاثر ہوگا۔

آئی جی سندھ پیٹرول پمپس کی سیکیورٹی یقینی بنائیں۔

عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ لوگ بڑی مقدار میں پیٹرول پمپوں سے پیٹرول کی خریداری کر رہے ہیں۔ حکومت پیٹرولیم کے ذخائر کی وافر موجودگی پر جھوٹ بول رہی ہے۔

ڈیلرز کو اس کی اوسطاً سیل سے 50 فیصد کم پیٹرول فراہم کیا جارہا ہے۔چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ حالات بہت خراب ہیں، پیٹرول پمپوں پر جھگڑے شروع ہوگئے ہیں۔

کل ہم پر الزام عائد نہ کیا جائے کہ ہم گڑ بڑ کررہے ہیں۔ پیٹرول پر ٹیکس اور لیوی فوری ختم کی جائے۔

حکومت سے بات کرتے ہیں تو وہ کمیٹی بنا دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بہت زیادہ اضافہ کرنے جارہی ہے۔

ہم اتنا مہنگا پیٹرول نہیں دے سکتے یا تو ہم پیٹرول پمپس بند کردیں۔

شہر کے متعدد پیٹرول پمپس ڈرائی ہورہے ہیں۔ اس صورتحال میں امن و امان کا خطرہ پیدا ہونے کا امکان ہے۔

جغرافیائی و علاقائی صورتحال کے پیشِ نظرحکومت نے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے وافر ذخائر موجود ہیں جو قومی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہیں۔

اوگرا نے عوام سے گزارش کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کی افواہوں پر توجہ نہ دیں اور نہ ہی غیر ضروری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی خریداری یا ذخیرہ اندوزی کریں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی یا انہیں غیر مجاز مقامات پر رکھنے میں ملوث کسی بھی فرد یا ادارے کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

بالخصوص وہ مقامات جو باقاعدہ لائسنس یافتہ آئل ڈپو یا آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ریٹیل آؤٹ لیٹس کے علاوہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ مشاہدے میں آیا ہے کہ بعض عناصر ایسے حالات میں ناجائز منافع خوری کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رحجان کی روک تھام کے لیے تمام صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے متعلقہ اضلاع میں ڈپٹی کمشنرز کو متحرک کریں تاکہ وہ معائنہ کریں اور جہاں کہیں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی پائی جائے وہاں متعلقہ مقامات کو سیل کرتے ہوئے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مزید برآں آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی ٹیمیں بھی فیلڈ میں موجود ہیں۔

آئل ڈپوز اور ریٹیل آؤٹ لیٹس پر پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں تاکہ فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی کی روک تھام کی جاسکے۔

بہرحال مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ میں شدت اور اس کی طوالت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت ہوگی اور گیس بحران کا خدشہ بڑھے گا جس سے صرف پاکستان نہیں بلکہ دیگر ممالک بھی متاثر ہونگے مگر حکومت کو اس بحران سے نمٹنے کیلئے غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہونگے تاکہ معیشت متاثر نہ ہو اور لوگوں کیلئے مسائل پیدا نہ ہوں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *