نصیرآباد: بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی) کے سربراہ میر اسرار اللہ خان زہری نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے نام ایک کھلا خط جاری کیا ہے جو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔
میر اسرار اللہ زہری نے اپنے خط میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال، جمہوری اقدار اور خضدار میں ہونے والے حالیہ ضمنی انتخاب کے حوالے سے کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
میر اسراراللہ زہری نے اپنے خط میں لکھا کہ ایک وقت تھا جب میاں نواز شریف کا نعرہ“ووٹ کو عزت دو”پورے ملک میں گونجتا تھا اور سیاسی کارکن اسے جمہوریت کی امید سمجھ کر دہراتے تھے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ بیانیہ کہیں پس منظر میں چلا گیا جبکہ ان کی جماعت دوبارہ اقتدار میں آ گئی۔انہوں نے خط میں بلوچستان کے سینئر سیاستدان سردار اختر مینگل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھی عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر ایوان تک پہنچے تھے، لیکن بعد ازاں انہوں نے استعفیٰ دے دیا۔
میر اسرار اللہ زہری کے مطابق حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں منانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نظر نہیں آئی اور بالآخر طویل انتظار کے بعد ان کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا۔بی این پی (عوامی) کے سربراہ نے کہا کہ جب خالی نشست پر ضمنی انتخاب کا اعلان ہوا تو انہوں نے بھی دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح اس میں حصہ لینے کی کوشش کی،
تاہم ان کے بقول انہیں انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے اس صورتحال کو جمہوریت کا“نیا حسن”قرار دیتے ہوئے خاموشی اختیار کرنے کا ذکر کیا۔میر اسراراللہ زہری نے اپنے خط میں طنزیہ انداز میں تجویز پیش کی کہ آئندہ آئینی ترمیم میں بلوچستان کے لیے ایک خصوصی“سلیکشن کمیٹی”کی منظوری بھی آئین کا حصہ بنا دی جائے تاکہ وفاق کو ہر بار انتخابات کرانے کی زحمت نہ اٹھانی پڑے اور بلوچستان سے نمائندوں کے انتخاب کا عمل آسان بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح نہ صرف سیاسی لوگوں کی غلط فہمیاں دور ہوں گی بلکہ وفاق کو بھی بدنامی سے بچایا جا سکے گا۔میر اسراراللہ زہری کے اس کھلے خط کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف حلقوں کی جانب سے تبصرے اور آراء سامنے آ رہی ہیں اور بلوچستان کی سیاست میں اس بیان کو خاصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
Leave a Reply