|

وقتِ اشاعت :   8 hours پہلے

کوئٹہ: سیاسی و قبائلی رہنما ء میر ندیم الرحمٰن محمدشہی نے جاری کردہ اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان میں دہائیوں سے چلنے والی ذاتی عناد، بے بنیاد الزامات اور کردار کشی نہ جمہوری روایت ہے اور نہ ہی عوامی شعور کے تقاضوں کے مطابق ہے۔

دہشتگردوں کے پشت پناہ گروہ کی جانب سے میر شفیق الرحمٰن مینگل پر عائد کیے گئے

الزامات نہ صرف ملک دشمن پرانے بیانیے کا تسلسل ہیں بلکہ ان کا مقصد محض سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور مفلوک الحال عوام کی توجہ اصل بنیادی مسائل سے ہٹانا کر منفی راستوں پر گامزن کرنا ہے مذکورہ گروپ ایند کمپنی فتنہ ہند کی ایماء پر اپنے اصل نظریاتی اور فکری مخالفین کے خلاف میڈیا ٹرائل اور الزام تراشیوں سے اپنے غیر جمہوری ہونے کا ثبوت کئی سالوں سے دیتے آرہے ہیں،

میر ندیم الرحمٰن نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ایک وفاقی اور جمہوری جماعت ہے جس کی بنیاد عوامی حقوق، آئینی بالادستی اور مفاہمتی سیاست پر قائم ہے۔میر شفیق الرحمٰن مینگل کا پارٹی میں شمولیت ایک سیاسی و جمہوری عمل ہے،بیان میں مزید کہا گیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل الزام تراشی، نفرت انگیز بیانات اور گڑھے گئے جھوٹے گَرد جھاڑنے میں نہیں بلکہ اجتماعی سنجیدگی، مکالمے اور ترقیاتی عمل کو آگے بڑھانے میں ہے۔

عوام باشعور ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ کون حقیقی معنوں میں ان کے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہے اور کون صرف سیاسی مفادات کے لیے بیانیہ تراش رہا ہے اپریل میں این اے 256 خضدار سے ضمنی انتخاب جھالاوان کا حقیقی سیاسی رخ متعین کرکے جھالاوان پر مسلط سالوں سے قومیت، عصبیت کے نام پر مسلط جعلی کرداروں سے نجات کا ذریعہ ثابت ہوگا،

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ اختلاف کو شائستگی کے دائرے میں رکھ کر نام نہاد غیر سیاسی گروہوں سے بائیکاٹ کریں جن کی سیاست کا محور ملک دشمنی اور دہشتگردوں کی وکالت پر مبنی ہیںبیان کے اختتام پر کہا گیا کہ جمہوریت برداشت، مکالمے اور آئین کی بالادستی کا نام ہے جو نام نہاد فاشسٹ پارٹی میں دور دور تک دکھائی نہیں دیتا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *