کوئٹہ: سرسرداران سراوان نواب محمد اسلم خان رئیسانی کی زیر صدارت حکومت کی جانب سے نئے ڈویژنز کی تشکیل اور اس سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر ہفتہ کو سراوان ہاؤس میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی،مرکزی سیکرٹری جنرل عبدالرحیم زیارتوال،صوبائی صدر قہار خان وادان، نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر چیئرمین اسلم بلوچ، صوبائی جنرل سیکرٹری چنگیز حئی بلوچ، پاکستان تحریک انصاف بلوچستان کے جنرل سیکرٹری ملک فیصل دہوار شریک ہوئے۔
اجلاس کے شرکاء نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اضلاع کی تاریخی، جغرافیائی اہمیت اور حیثیت کو یکسر مسترد اور مقامی قیادت، سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کرتے ہوئے نئے ڈویژنژ کی تشکیل میں اضلاع کا غیر ضروری انضمام اور غیر منطقی کوششوں سے صوبہ میں مزید بے چینی اور خلفشار کو بڑھایا جارہا ہے،
جو حقیقی سیاسی قیادت اور سیاسی جماعتوں کے لئے قابل قبول نہیں، اس حوالے سے فیصلہ کیا گیاکہ ان اجتماعی اور جملہ مسائل پر ایک مضبوط فرنٹ تشکیل دئے کر حکومت کے غیر ضروری و غیر منطقی فیصلہ کو قبول نہ کرتے ہوئے ہر فورم پر آوازا ٹھائیں گے اور مشترکہ طور پر عدالت سے بھی رجوع کیا جائے گا، اجلاس مین یہ بھی فیصلہ کیا گیا
کہ تمام اپوزیشن جماعتوں سے اس حوالے سے رابطہ کرکے لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا، اجلاس کے شرکاء نے حکومت کے اس عمل کو بلوچ پشتون سیال بردار اقوام کے درمیان نفرتوں کی دیواریں کھڑی کرکے دست وگریباں کرنے کی سازش قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی،شرکاء نے بلوچ اور پشتونوں کے مسائل پر بھی بات کی اور آئندہ بھی مسائل کو زیر غور لایا جائیگا اور سیال بردار اقوام کے مساحل کو حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
Leave a Reply