|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

آج پشتو، بلوچی، براہوی اور ہزارگی اکیڈمیز کے نمائندہ وفد نے نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر محمد شہی اور رکن قومی اسمبلی پلین بلوچ بھی موجود تھے۔ وفد نے ڈاکٹر صاحب کو مجوزہ “بلوچستان ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹری سوسائٹی بل 2025” کے حوالے سے اکیڈمیوں کے اصولی اور قانونی تحفظات سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔


​وفد نے بریفنگ دیتے ہوئے واضح کیا کہ یہ اکیڈمیاں “سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860” کے تحت رجسٹرڈ خود مختار ادارے ہیں، جنہیں بیوروکریٹک کنٹرول میں لانا ان کی فکری آزادی اور علمی روح کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے اکیڈمیوں کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے انہیں “قومی اثاثہ” قرار دیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مادری زبانیں ہی ہماری اصل شناخت ہیں۔


​ڈاکٹر مالک بلوچ نے وفد کو یقین دلایا کہ وہ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ بلوچستان سے ملاقات کر کے انہیں قائل کریں گے کہ اکیڈمیوں کے معاملات کو اہل قلم، ادیبوں اور دانشوروں کے سپرد ہی رہنے دیا جائے، کیونکہ علمی کام کبھی بھی انتظامی احکامات کے تابع نہیں رہ سکتے۔ انہوں نے اکیڈمیوں کی دہائیوں پر محیط علمی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر ہم اپنی زبانوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں تو ان اداروں کو حکومتی تحویل میں لینے کے بجائے ان کی خود مختاری کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔


​اکیڈمیوں کا یہ وفد اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ ہم اپنی علمی و ادبی میراث کے تحفظ کے لیے ہر جمہوری اور قانونی فورم پر آواز بلند کریں گے اور اپنی خود مختار حیثیت پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *