|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

گوادر: گوادر،ایرانی پٹرول کی مصنوعی قلت،فی ڈرم ایرانی پٹرول قیمت میں دوگنا اضافہ، فی ڈرم 26 ہزار سے بڑھ کر 47 ہزار تک پہنچا،ماہی گیروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار متاثر،ماہی گیر سمندر جانے سے قاصر، ذخیرہ اندوزی کے الزامات، شہریوں کا انتظامیہ سے فوری کارروائی کا مطالبہ،ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا خدشہ،تفصیلات کے مطابق ایرانی تیل کی قیمتوں میں اچانک اور غیر معمولی اضافے نے گوادر اور گردونواح کے علاقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

چند ہفتے قبل تک ایرانی پٹرول کا فی ڈرم تقریباً 26 ہزار روپے میں فروخت ہو رہا تھا تاہم حالیہ کشیدگی اور مبینہ ذخیرہ اندوزی کے باعث اس کی قیمت بڑھ کر 47 ہزار روپے تک جا پہنچی ہے۔

اس ہوشربا اضافے نے ماہی گیروں، ٹرانسپورٹرز اور عام شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔مقامی ذرائع کے مطابق ساحلی پٹی کے بیشتر ماہی گیر اپنی کشتیوں کے لیے سستا ایرانی تیل استعمال کرتے ہیں مگر قیمتوں میں اس اچانک اضافے کے بعد کئی ماہی گیر سمندر میں شکار کے لیے جانے سے قاصر ہو گئے ہیں

کیونکہ ایندھن کی لاگت ان کی آمدنی سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ان کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ سکتے ہیں۔شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایرانی تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف بیرونی حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ مقامی سطح پر بعض ذخیرہ اندوز اور موقع پرست عناصر بھی اس بحران سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق کئی ڈیلرز نے بڑی مقدار میں تیل ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کر دی ہے تاکہ قیمتوں کو مزید بڑھایا جا سکے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ یہی عناصر منافع خوری کی خاطر عوام کی مشکلات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔شہری حلقوں اور ماہی گیر تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ انتظامیہ فوری طور پر تیل کی غیر قانونی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو قیمتیں مزید بے قابو ہو سکتی ہیں اور ساحلی علاقوں کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو جائے گی۔سماجی حلقوں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ ایرانی تیل کی قیمتوں پر کڑی نگرانی کی جائے اور ذخیرہ اندوزوں، بلیک مارکیٹ کرنے والوں اور موقع پرست عناصر کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ عوام کو اس مصنوعی بحران سے نجات مل سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *