|

وقتِ اشاعت :   13 hours پہلے

امریکہ اور اسرائیل نے یہ پہلے سے ہی طے کرلیا تھا کہ دونوں مل کرایران پر بڑے پیمانے پر حملہ کرینگے ۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا عندیہ دیا گیا تھا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملے کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران میں رجیم چینج ضروری ہے اور ایرانی عوام سرپرائز کا انتظار کریں اور امریکہ کا ساتھ دیں۔

ایران میں جب مظاہرے شروع ہوئے تھے تبھی ایران پر حملے کی منصوبہ بندی کردی گئی تھی، عمان جو ثالثی کا کردار ادا کررہا تھا امریکہ اور اسرائیل نے اس تمام عمل کے دوران دھوکہ دہی کا مظاہرہ کیا۔

مشرق وسطیٰ سمیت عالمی ممالک ایران پر ممکنہ حملے سے متعلق باخبر تھے جب بحری بیڑے ایران کے قریب پہنچائے گئے جو واضح اشارہ تھے کہ ایران پر تاریخ کی بدترین کارروائی کی جائے گی امریکہ نے ایران کے اہم قائدین، فوجی سربراہان کو مار ڈالا، فوجی تنصیبات، دفاعی نظام، بحری و فضائی سسٹم کو بری طرح متاثر کیا جبکہ عام لوگوں کو بھی نشانہ بنایا اب تک ہزاروں افراد جاں بحق ہوچکے ہیں اور ایران پر مسلسل حملے جاری ہیں جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں اسرائیل سمیت خلیجی ممالک کو نشانہ بنایا۔

ایران اس جنگ کو تنہاء لڑ رہا ہے ایران نے خلیجی ممالک پر حملے کرکے خود کومزید تنہاء کرلیا ہے اب خلیجی ممالک کی جانب سے بھی ردعمل یقینی ہے اور اس کا فائدہ امریکہ اور اسرائیل کو پہنچے گا۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد یہ سوال بھی اٹھایا جارہاہے کہ روس اور چین ایران کے اہم بین الاقوامی اتحادی ہیں ان کی جانب سے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی صرف مذمت کی گئی ہے اور فوجی مدد دینے سے گریز کیا گیا ہے۔

انہوں نے ایران کو سیاسی اور اقتصادی تعاون فراہم کیا ہے، مگر کوئی براہِ راست جنگ میں شامل نہیں ہوا، جو ایران کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کو ’اخلاقی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔ چین کے وزیرِ خارجہ وانگ یی نے اسرائیلی ہم منصب سے کہا کہ طاقت مسائل حل نہیں کر سکتی اور تمام فریقوں سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی۔

روس اور چین نے اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل میں ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی۔

جنوری 2025 میں روس اور ایران نے ایک جامع اسٹریٹیجک شراکت داری کا معاہدہ کیا، جس میں تجارت، فوجی تعاون، تعلیم اور ثقافت شامل ہیں۔

اس معاہدے میں مشترکہ دفاع کا کوئی واضح فقرہ نہیں تھا، اس لیے روس ایران کے لیے براہِ راست فوجی کارروائی کا پابند نہیں۔

روس کے ماہرین کے مطابق ایران کی حمایت میں فوجی مداخلت کے خطرات بہت زیادہ ہیں اور ماسکو یوکرین تنازع میں امریکا کے مذاکرات کو ترجیح دے رہا ہے۔

چین اور ایران کے درمیان 25 سالہ تعاون کا معاہدہ ہے جس میں توانائی اور بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے تحت سرمایہ کاری شامل ہے۔ چین ایران کے لیے سفارتی اور اقتصادی مدد فراہم کرتا ہے، مگر فوجی مداخلت کی واضح حد قائم کی گئی ہے۔

چین کی ترجیح ہے کہ وہ امریکی اور خلیجی ممالک کے ساتھ بات چیت کے ذریعے خطے میں استحکام پیدا کرے اور اپنے اقتصادی مفادات کی حفاظت کرے۔

روس اور چین کے مضبوط لیکن محدود تعاون نے ایران کو کچھ سیاسی تحفظ فراہم کیا ہے مگر براہِ راست فوجی مدد کی غیر موجودگی ایران کے لیے غیر یقینی صورتحال اور عالمی تناؤ میں اضافہ کرتی ہے۔

یہ رویہ ایران کی جنگی حکمت عملی اور عالمی تعلقات دونوں پر اثر ڈال رہا ہے۔

بہرحال اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایران تنہاء اپنی جنگ لڑ رہا ہے اب دفاعی صلاحیت کس حد تک ایران کے پاس ہے کہ وہ طویل جنگ لڑ سکتا ہے دوست ممالک صرف سفارتکاری سے جنگ بندی کی کوشش کرینگے مگر براہ راست اس جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے۔بہرحال اس جنگ سے عالمی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے ، خام تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں عالمی ممالک کے اسٹاک ایکسچینج متاثر ہورہے ہیں ۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ و کشیدگی مستقبل میں معاشی و انسانی بحران کا سبب بنے گی۔

امریکی صدر نے واضح پیغام دیا ہے کہ ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی معاہدہ نہیں ہوگا۔ ٹ

رمپ نے مزید کہا کہ پھر ایک بہترین اور قابل قبول قیادت کے انتخاب کے بعد امریکا اور اس کے اتحادی ایران کو تباہی کے دہانے سے واپس لانے کے لیے بھرپور کام کریں گے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کو معاشی طور پر پہلے سے زیادہ بڑا، بہتر اور مضبوط بنایا جائے گا، ایران کا مستقبل شاندار ہوگا۔” میک ایران گریٹ اگین”۔

امریکی صدر کا یہ بیان غیر معمولی ہے امریکہ اپنے مقاصد کیلئے اب کوئی حد نہیں چھوڑے گا، یہ جنگ جتنی طویل ہوگی اس سے امریکہ بھی متاثر ہوگا۔

امریکہ خطے میں مکمل کنٹرول حاصل کرنے کیلئے حملے کررہا ہے ،ایران میں رجیم چینج کا مقصد ہی وسائل کو ہڑپنے کے ساتھ خطے کو طاقت کے ذریعے اپنے کنٹرول میں کرنا ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *