|

وقتِ اشاعت :   13 hours پہلے

کوئٹہ ؛  جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر، ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہاکہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کا حل طاقت یا نظر انداز کرنے سے نہیں بلکہ سیاسی مکالمے،آئینی بالادستی اور عوام کو ان کے جائز حقوق دینے سے ممکن ہے حکومت کو چاہیے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے معاشی، تعلیمی اور سماجی مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اور موثر اقدامات کرے۔جماعت اسلامی کے بنوقابل پروگرام ودیگرخدمات میں بہتری ووسعت لے آئیں گے۔

بارڈر،شاہراہیں،انٹرنیٹ وتجارت کی بندش طاقت کے استعمال سے نہ پہلے حالات ٹھیک ہوئے نہ آئندہ ممکن ہے۔

ان خیالات کااظہارانہوں نے کوئٹہ میں جماعت اسلامی بلوچستان کی صوبائی و کوئٹہ کے ذمہ داران اور سیاسی کمیٹی کے مشترکہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں بلوچستان کی سیاسی پارلیمانی صورتحال،امن وامان،بدامنی،بے روزگاری،غربت،لاپتہ افراد،بارڈرز،مین شاہراہوں،انٹرنیٹ،تجارت کی بندش،جماعت اسلامی کی تنظیمی صورتحال وآئندہ لائحہ عمل پرطویل مشاورت ہوئی اور عوام کو درپیش سنگین مسائل پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

اجلاس میں صوبائی امیرایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نائب امیر پارلیمانی سیکرٹری انجینئر عبدالمجید بادینی، جنرل سیکرٹری مرتضی خان کاکڑ نائب امرا عبدالمتین اخونزادہ، زاہداختربلوچ،مولانا عبدالکبیرشاکر،ڈاکٹر عطاالرحمان،ڈاکٹر شکیل روشن،حافظ نورعلی،مولانامحمد عارف دمڑ،ڈپٹی جنرل سیکرٹریزنورالدین غلزئی صابرصالح پانیزئی،الخدمت فانڈیشن بلوچستان کے صدر عبدالمجید سربازی،اسلامی جمعیت طلبہ بلوچستان کے ناظم احسان اللہ ناصر،این ایل ایف،پریم یونین کے ارشدیوسفزئی،جماعت اسلامی کوئٹہ کے امیرعبدالنعیم رند،میڈیاانچارج عبدالولی خان شاکر،شوشل میڈیا کے اسامہ ہاشمی روح اللہ سالار ودیگرشریک ہوئے۔

اجلاس میں صوبائی امیرمولانا ہدایت الرحمان بلوچ ودیگرذمہ داران نے موجودہ حالات کاتجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام طویل عرصے سے بے روزگاری،ناخواندگی، بدامنی اور بنیادی سہولیات کی کمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔

بارڈر کی بندش سے سرحدی علاقوں کے عوام کی روزی روٹی شدید متاثر ہو رہی ہے جبکہ تجارت میں رکاوٹوں اور شاہراہوں کی بار بار بندش نے کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر دیا ہے۔انٹرنیٹ کی بندش اور مواصلاتی مسائل نے طلبہ،تاجروں اور عام شہریوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔اجلاس میں بلوچستان میں عدالت اقدامات اور آئین و قانون کے برعکس جبری گمشدگیوں سمیت اسرائیل وامریکہ کاایران پرحملے اورافغانستان پاکستان کشیدگی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیااورمطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان کے تمام معاملات کو آئین اور قانون کے دائرے میں حل کیا جائے اور عوام کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جائے۔ایران کی مکمل حمایت افغانستان پاکستان کشیدگی فوری ختم کی جائے۔

اجلاس میں وفاقی حکومت کاجماعت اسلامی کے حقوق بلوچستان لانگ مارچ سے کیے گیے مطالبات وعدوں پرعمل درآمد کابھی مطالبہ کیاگیا۔اجلاس میں جماعت اسلامی کی پارلیمانی،سیاسی اور عوامی فلاحی جدوجہد کا بھی جائزہ لیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کیلئے اپنی جدوجہد مزید مثر انداز میں جاری رکھے گی۔

اجلاس میں آئندہ کی سیاسی حکمت عملی، عوامی رابطہ مہم اور تنظیمی سرگرمیوں کو مزید فعال بنانے کے حوالے سے بھی تفصیلی مشاورت کی گئی اور اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ جماعت اسلامی بلوچستان کے عوام کی آواز ہر فورم پر بلند کرتی رہے گی۔اجلاس کے شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں پائیدار امن، سیاسی استحکام اور معاشی ترقی کیلئے ضروری ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *