کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے جاری بیان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، جنگی ماحول اور غیر یقینی صورتحال کے دوران عوام پر پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ دراصل مہنگائی کا ایک اور بم گرانے کے مترادف ہے۔
ایسے حالات میں جب عوام پہلے ہی شدید معاشی دباؤ، بے روزگاری اور مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں، حکومت کا یہ اقدام عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے برابر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت پیٹرول مہنگا کرکے عوام کی زندگی اجیرن بنا رہی ہے اور دوسری جانب تعلیمی اداروں کو بند کرکے بچوں کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا رہی ہے۔ تعلیم کے دروازے بند کرنا دراصل قوم کی آنے والی نسلوں کے راستے مسدود کرنے کے مترادف ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف ایندھن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات پورے معاشی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ ٹرانسپورٹ سے لے کر اشیائے خوردونوش تک ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے اور اس کا سارا بوجھ براہ راست عام آدمی پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام پہلے ہی معاشی بدحالی اور حکومتی نااہلی کے نتائج بھگت رہے ہیں، ایسے میں مزید بوجھ ڈالنا کسی طور قابل قبول نہیں۔ترجمان نے کہا کہ فارم 47 کے نتیجے میں قائم حکومت نہ عوامی اعتماد رکھتی ہے اور نہ ہی عوامی مسائل کے حل کے لیے کوئی واضح بصیرت۔
موجودہ حکمران عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ایسے فیصلے کر رہے ہیں جو معاشی بحران کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف ہر جمہوری اور آئینی فورم پر بھرپور آواز بلند کی جائے گی اور حکومت سے مطالبہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے کو فوری واپس لے کر مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے۔
Leave a Reply