کوئٹہ : پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کے بعد ٹرانسپورٹروں نے اندرون صوبہ اور ملک جانے والی گاڑیوں کے کرایوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا
اس کے علاوہ ریلوے حکام نے بھی اکانومی کلاس کے کرایوں میں 5 فیصد جبکہ دیگر کلاس کے کرایوں میں 10 فیصد اور مال بردار ٹرین کے کرایوں میں اضافہ کردیا گیا جس کی وجہ سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حکومت کی جانب سے عید الفطر سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک کے دوران تقریباً 60 روپے سے زائد فی لیٹر اضافہ کیا گیا جس کی وجہ سے مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہوگیا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث تمام اشیاء خوردونوش اور مصنوعات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہوگیا اور ٹرانسپورٹروں نے کوئٹہ سے اندرون صوبہ اور اندرون ملک چلنے والی گاڑیوں کے کرایوں میں من مانا اضافہ کردیا ہے
حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے تناسب سے کوئی نیا نرخ نامہ تا حال جاری نہیں کیا لیکن ٹرانسپورٹروں کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کے اضافے کے ساتھ کرایوں میں اضافہ کردیا ہے جس میں کوئٹہ سے گوادر 4000 روپے گوادر سے سوراب 3500 روپے، گوادر سے پتک بسیمہ 3 ہزار روپے، گوادر سے پنجگور 2500 روپے، کوئٹہ سے تربت 3500 روپے، تربت سے سوراب 3000، تربت سے پتک بسیمہ 2500 روپے، تربت سے پنجگور1500 روپے، کوئٹہ سے پنجگور 2500 روپے، کوئٹہ سے ناگ 2 ہزار، کوئٹہ سے پتک بسیمہ 1800 روپے مقرر کیا گیا ہے
عید الفطر سے قبل بڑھتے ہوئے کرایوں نے عید کے موقع پر اپنے گھروں کو عید منانے کے لئے جانے والے پردیسیوں اور لوگوں کی مشکلات بڑھ گئی عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ حکومت فوری طور پر اس کا نوٹس لیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹرانسپورٹ کے بڑھنے والے کرایوں کو کم کرے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کے دوران عوام کو ریلیف مل سکے۔
Leave a Reply