کوئٹہ: چیف جسٹس عدالت عالیہ بلوچستان جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس محمد نجم الدین مینگل پر مشتمل دو رکنی بینچ نے این ایچ اے کے مختلف سڑک منصوبوں میں تاخیر پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
عدالت میں درخواست گزار کی جانب سے وکیل دوست محمد مندوخیل ایڈووکیٹ پیش ہوئے، جبکہ این ایچ اے کی جانب سے نجیب اللہ کاکڑ ایڈووکیٹ اور لاء آفیسر عبدالمنان نے معاونت کی۔ اس کے علاوہ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل محمد فرید، ڈپٹی اٹارنی جنرل انور نسیم کاسی، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شئے حق بلوچ اور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل سلمیٰ نے بھی عدالت کی معاونت کی۔سماعت کے دوران این ایچ اے کے نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ادارہ اس وقت N-25 (کراچی۔خضدار۔کوئٹہ۔چمن روڈ) منصوبے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور اسی وجہ سے فنڈز زیادہ تر اسی منصوبے کے لیے مختص کیے جا رہے ہیں، کیونکہ یہ سڑک دو صوبوں کے درمیان عوامی آمد و رفت کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔
عدالت کو مزید بتایا گیا کہ N-50 (کچلاک۔ڑوب ڈوئلائزیشن منصوبہ) پر بھی کام جاری ہے۔
تاہم سماعت کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ منصوبوں پر خاطر خواہ پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی۔ عدالت میں موجود وکلاء اور لاء افسران، جن کا تعلق متعلقہ علاقوں سے ہے، نے این ایچ اے کے مؤقف کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی خراب صورتحال مسافروں کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن رہی ہے۔عدالت کو بتایا گیا کہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی جانب سے صوبے میں مختلف زیر التوا منصوبوں کی تکمیل کے لیے این ایچ اے کو اب تک تقریباً 127 ارب روپے جاری کیے جا چکے ہیں،
اس کے باوجود منصوبوں پر مطلوبہ رفتار سے کام نظر نہیں آ رہا۔درخواست گزار کے وکیل دوست محمد مندوخیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ عدالت کی بارہا ہدایات کے باوجود کراچی۔خضدار۔کوئٹہ۔چمن روڈ (N-25)، ہوشاب۔
آواران روڈ (M-08)، آواران۔نالک روڈ (M-08) اور N-50 کی بحالی و مرمت سمیت متعدد منصوبوں پر عملی کام شروع نہیں کیا گیا،
نہ ہی باقی علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں کی آغاز ہو سکی ہیں۔چیف جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے ریمارکس دیے کہ عدالت یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ جب N-50 کے بعض حصے مکمل ہو چکے ہیں تو باقی علاقوں میں تعمیرات روکنا اور سڑک کی دیکھ بھال و مرمت شروع نہ کرنا قابل قبول نہیں۔
عدالت نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ N-50 کی ڈوئلائزیشن مختلف وجوہات کی بنا پر مسلسل تاخیر کا شکار ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ این ایچ اے کی جانب سے مختلف بہانوں کے ذریعے منصوبوں میں تاخیر کا رجحان تشویشناک ہے۔ جب عدالت نئے منصوبوں کے بارے میں استفسار کرتی ہے تو زیر التوا منصوبوں کو تاخیر کا جواز بنایا جاتا ہے، جبکہ جاری منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق کوئی تسلی بخش جواب فراہم نہیں کیا جاتا۔
عدالت نے این ایچ اے حکام کو ہدایت کی کہ وہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ بصورت دیگر متعلقہ حکام کو ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہو کر اپنی ناکامی کی وجوہات بیان کرنا ہوں گی۔
عدالت نے حکم دیا کہ رکن این ایچ اے (بلوچستان) آئندہ سماعت پر جامع رپورٹ کے ساتھ پیش ہوں، جبکہ مزید کوتاہی کی صورت میں چیئرمین این ایچ اے کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔
عدالت نے اپنے حکم کی کاپی ایڈووکیٹ جنرل آفس کو بھی ارسال کرنے کی ہدایت کی تاکہ متعلقہ حکام کو آگاہ کر کے عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔کیس کی مزید سماعت 12 مارچ 2026 تک ملتوی کر دی گئی۔
Leave a Reply