|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ: پشتو، بلوچی اور براہوی اکیڈمیوں کے نمائندہ وفد سے ملاقات کے دوران مولانا ہدایت الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر صوبائی حکومت نے بلوچستان ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹری سوسائٹی بل 2025 اسمبلی میں پیش کیا تو وہ اس کی بھرپور مخالفت کریں گے اور اکیڈمیوں کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ادیبوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

​آج پشتو، بلوچی اور براہوی اکیڈمیوں کے نمائندہ وفد نے جماعت اسلامی کے صوبائی امیر اور رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان سے ملاقات کی اور انہیں اکیڈمیوں سے متعلق صوبائی حکومت کے مجوزہ “بلوچستان ریجنل لینگویجز اکیڈمیز اینڈ لٹری سوسائٹی بل 2025” پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا۔ وفد نے موقف اختیار کیا کہ علمی و ادبی ادارے صرف اہل قلم اور دانشور ہی بہتر طریقے سے چلا سکتے ہیں، کسی بیوروکریٹ کے ذریعے ان اداروں کا انتظام سنبھالنا زبان و ادب کی خدمات کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہوگا۔
​مولانا ہدایت الرحمان نے وفد کے موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے کہا کہ اکیڈمیوں کے ممبران رضاکارانہ طور پر گراں قدر خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کا متبادل کوئی سرکاری افسر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اکیڈمیوں کی خودمختاری کے لیے ہر فورم پر آواز اٹھائیں گے اور اگر حکومت نے یہ بل صوبائی اسمبلی میں پیش کیا تو وہ اس کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اکیڈمیوں کی بقا اور ان کی آزادانہ حیثیت کے تحفظ کے لیے ادیبوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *