|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ:  بلوچستان ہائی کورٹ میں قومی عدالتی (پالیسی سازی) کمیٹی (NIPMC) کے زوم اجلاس کے بعد آل ججز اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کی۔ اجلاس میں لا اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی جانب سے جاری سات نکاتی ایجنڈے پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور متفقہ طور پر اس کی توثیق کر دی گئی۔

اجلاس میں معزز ججز نے عوامی وسائل کے مؤثر استعمال، ممکنہ پٹرولیم کی قلت اور عالمی سطح پر توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر کفایت شعاری اور توانائی بچت کے متعدد اقدامات کی منظوری دی تاکہ صوبے میں عدالتی خدمات کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔اجلاس کے دوران فیصلہ کیا گیا کہ بلوچستان ہائی کورٹ میں چار روزہ ورکنگ ویک نافذ کیا جائے گا۔

پیر سے جمعرات تک معمول کے مطابق عدالتی کام جاری رہے گا جبکہ جمعہ کے روز صرف ہنگامی نوعیت کے مقدمات کی سماعت کی جائے گی۔ اسی طرح ہائی کورٹ کا عملہ جمعہ اور ہفتہ کو روٹیشنل بنیادوں پر دفتر حاضر ہوگا۔ ضلعی عدالتوں میں بھی مقدمات پیر سے جمعرات تک مقرر کیے جائیں گے جبکہ جمعہ اور ہفتہ کو ہر سیشن ڈویڑن میں ہنگامی امور جیسے ریمانڈ، ضمانت کی درخواستیں، انسداد احکامات اور ہیبیس کارپس پٹیشنز کی سماعت جاری رکھی جائے گی۔

اجلاس میں اخراجات میں کمی کے لیے پیپر، آئل اور لبریکینٹس (POL) کے استعمال میں نمایاں کمی کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ ہائی کورٹ کے ججز اور اسٹبلشمنٹ کے لیے ان اخراجات میں 50 فیصد کمی کی جائے گی جبکہ ضلعی عدالتوں میں پہلے مرحلے میں مارچ کے مہینے کے دوران 30 فیصد کمی کی جائے گی اور بعد ازاں اسے 50 فیصد تک بڑھا دیا جائے گا۔مزید برآں رضاکارانہ تنخواہ کٹوتی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

اس کے تحت ہائی کورٹ کے معزز ججز، ہائی کورٹ اسٹبلشمنٹ اور ضلعی عدلیہ کے وہ افسران جو بی ایس-20 یا اس سے اوپر گریڈ میں ہیں اور ماہانہ تین لاکھ روپے یا اس سے زائد تنخواہ حاصل کرتے ہیں، ان کی دو دن کی بنیادی تنخواہ بطور رضاکارانہ کٹوتی لی جائے گی۔اجلاس میں عدالتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعتوں کو فروغ دینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

اس مقصد کے لیے ای-کورٹ کی سہولت تمام سیشن ڈویڑنز میں دو ہفتوں کے اندر نصب کی جائے گی تاکہ فریقین اور وکلاء دور دراز علاقوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے سماعت میں شرکت کر سکیں۔اسی طرح ہائی کورٹ اسٹبلشمنٹ اور ڈسٹرکٹ جوڈیشری کے عملے کی حاضری کو بھی روٹیشنل بنیادوں پر ترتیب دینے کا فیصلہ کیا گیا،

جس کے تحت نصف عملہ جمعہ اور ہفتہ کے روز دفتر آئے گا تاکہ عدالتی امور کا تسلسل برقرار رہے اور آمدورفت کے اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔معزز ججز نے اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اقدامات ذمہ دارانہ حکمرانی، وسائل کے مؤثر انتظام اور توانائی کی بچت کے قومی اقدامات کے ساتھ مکمل یکجہتی کی عکاسی کرتے ہیں جبکہ عدالتی نظام کی کارکردگی کو بلا تعطل جاری رکھنے کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *