|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ:  جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا ہے کہ پی بی 36قلات کے انتخابات میں بد ترین دھاندلی کی گئی ہے،

جمعیت علماء اسلام نے عید کے بعد صوبائی مجلس شوریٰ کا اجلاس طلب کرلیا ہے جس میں موجودہ نظام سے نکل کر عوامی اسمبلی لگانے کی تجویز پر فیصلہ کریں گے، خضدار کے ضمنی انتخاب میں بھی دھاندلی اور ہمارے خلاف نتائج نوشتہ دیوار ہیں،بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو یکجا کر کے اتحادقائم کریں گے،

یہ بات انہوں نے جمعرات کو اپنی رہائشگاہ پر سینیٹر شکور خان غیبزئی، مولانا خورشید احمد سمیت دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے کہا کہ 2024میں الیکشن نہیں بلکہ آکشن ہوا بلوچستان کے حوالے سے کوئٹہ کے ایک نجی ہوٹل میں جو پلا ن بنایا گیا اسی کے تسلسل میں پی بی 36قلات کے انتخابات میں بد ترین دھاندلی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جو کچھ سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہورہا ہے وہ ظلم اور ناانصافی ہے لیکن جمعیت علماء اسلام کے خلاف مسلسل بغض رکھا گیا ہے 2024کے انتخابات میں خیبر پختونخواء میں بھی جمعیت علماء اسلام کے کو ہرا کر پی ٹی آئی کو برسراقتدار لایا گیا۔

انہوں نے کہ بلوچستان میں 2024کے عام انتخابات میں ژوب، لورالائی، پشین، قلعہ عبداللہ سمیت صوبے بھر کے ہمارے نظریاتی حلقوں جہاں پر ہماری جماعت 1973کے بعد سے فعال اور مضبوط ہے میں بھی ہمارے امیدواروں کو ہرایا گیا جبکہ ہمارے کامیاب ہونے والے امیدواروں اپنی شخصیت اور پارٹی کی بنیاد پر ووٹ ملے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہماری جماعت کے امیدوار عثمان پرکانی 6ہزار ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے مگر انکی جگہ 500لینے والے علی مدد جتک کو میاب کروایا گیا قلات جو کہ جمعیت علماء اسلام کے اثر رسوخ کا علاقہ ہے کے 7پولنگ اسٹیشنز میں 1سال سے دوبارہ پولنگ کا عمل روکا گیا تھا جب پولنگ کا اعلان ہوا تو ہماری کامیابی یقینی تھی لیکن 40کے بجائے پولنگ اسٹیشنز میں 15سے 20پولنگ بکس موجود تھیں جبکہ دیگر ووٹ غائب کئے گئے جمعیت علما ء اسلام پی بی 36قلات کے دوبارہ پولنگ کے نتائج کو مسترد کرتی ہے ہمارے امیدوار کے ساتھ آنے والے مشتعل نوجوان یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ آیا انہیں پاکستانی تسلیم کیا جاتا ہے یا نہیں یا پھر وہ پاکستان کے ساتھ چل سکتے ہیں یا نہیں تاہم ہم نے انہیں صبر واستقامت سے کام لینے کی تجویز دی ہے

جمعیت علماء اسلام واضح کرتی ہے کہ ہم ظلم و جبر کو برداشت نہیں کریں گے اور جدوجہد جاری رکھیں گے ہم کسی بھی صورت مایوسی کا شکار نہیں ہونگے اور اپنی منزل کو پہنچیں گے۔مولانا عبدالواسع نے کہا کہ میر سعید لانگو کی جو ویڈیو سوشل میڈیا پر آئی ہے اس پر ہم وضاحت کرتے ہیں کہ جس شخص کے ساتھ واقعہ پیش آیا وہ پریزائیڈنگ آفیسر تھا ہی نہیں وہ کسی اور کی جگہ موجود تھا جس پر امیدوار مشتعل ہوئے۔انہوں نے کہا کہ 2سال گزر نے کے باوجود ہمارے مخالفین ہمارے خلاف ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جمعیت علماء اسلام بلوچستان اب سنجیدگی سے اس بات پر غور کر رہی ہے کہ ہم اس جمہوری نظام کا حصہ نہ بنیں اور ملک میں جو کچھ ہورہا ہے ہم اس نظام سے علیحدہ ہوکر میدان عمل میں اپنی عوامی اسمبلی لگا کر وہاں عوامی مسائل کو پیش کریں۔ انہوں نے کہا کہ عید کے بعد جمعیت علماء اسلام کی صوبائی شوریٰ کا اجلاس طلب کیا ہے جس میں ہم صوبے میں جمہوری نظام سے الگ ہونے کی تجاویز پیش کریں گے

اور پر ہونے والے فیصلے کو مرکزی جماعت کو بھیجیں گے اور فیصلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے حقو ق کے لیے میدان میں نکلیں گے خضدار کی قومی اسمبلی کی نشست کے ضمنی انتخاب میں نتائج نوشتہ دیوار ہیں کہ وہاں بھی دھاندلی کے ذریعے جمعیت علماء اسلام کو ہرانے کی کوشش کی جائیگی،انہوں نے کہا کہ اگر مرکزی شوریٰ نے اجازت دی تو ہم بلوچستان میں نظام سے الگ ہو جائیں گے۔ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ 40سال تک ہم چاہتے رہے کہ افغانستان میں اسلامی اور ایسا نظام آئے جو ہمارے حق میں ہو افغان عبوری حکومت نے توقعات سے بڑھ کر کام، امن قائم کیا ہے جو لوگ موجودہ نظام کے لوگوں کا ساتھ دے رہے تھے ان کا ارادہ تھا کہ ہماری مرضی اور غلام نظام ہوگا مگر افغان حکومت کہتی ہے کہ خود مختار اور آزاد ہیں تاہم پاکستان میں افغانستان سے دراندازی کا معاملہ سنگین ہے جس پر ہمارے تحفظات ہیں

اگر ہم نے ان کی40سال تک میزبانی تو انہیں اسکا یہ صلہ نہیں دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے بھی افغانستان میں رابطے کیے اور وفود بھیجے ہیں ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے مسائل حل ہوں۔انہوں نے کہا کہ ہمیں اس متعلق سوچنا چاہیے کہ پاکستان کے اردگرد اگر سب دشمن ہو جائیں گے تو ازلی دشمن امریکہ کے خلاف ہمارا ساتھ کوئی دینے والا نہیں ہوگا۔

ایک سوال کے جواب میں مولانا عبدالواسع نے کہا کہ اس وقت رمضان المبارک ہے اور ہمارے اکثر ارکان یا تو عمرے پر گئے ہیں یا پھر وہ اپنے حلقوں میں ہیں جسکی وجہ سے وہ پریس کانفرنس میں نہیں آئے جب صوبائی امیر موجود ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پوری جماعت ایک پیج پر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد یا کسی دوسرے نقطے ہے بجائے ہم نظام سے باہر جانے کا سوچ رہے ہیں جب یہ فیصلہ ہوگا تو کوئی بھی رکن حکومت یا اسمبلی میں نظر نہیں آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا گلہ اسٹیبلشمنٹ سے ہے ہمارے ساتھ دھاندلی اور ظلم کیا گیا ہے ہماری کوشش ہے کہ بلوچستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو یکجا کر کے اتحاد قائم کریں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *