|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہوا جس میں اُنھوں نے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے تسلسل پر زور دیا اور کہا کہ ’میناب کے سکول کے بچوں سمیت ہلاک ہونے والے تمام ایرانیوں کے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔‘

ایران کے سرکاری ٹیلی وژن سے مجتبیٰ خامنہ ای کا پہلا پیغام نشر کیا گیا جو انھوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کی حیثیت سے دیا۔ یہ پیغام سرکاری ٹی وی کے ایک میزبان نے پڑھ کر سنایا۔

اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’انھیں مجلسِ خبرگان کے اپنے انتخاب کے فیصلے کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری ٹی وی کے ذریعے معلوم ہوا۔‘

امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے ایران کی جوابی کارروائیوں کے جاری رہنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’دشمن کے خلاف ایسے دیگر محاذ کھولنے کے بارے میں مطالعہ کیا گیا ہے جہاں اسے کم تجربہ ہے اور وہ شدید کمزور ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر جنگی صورتحال برقرار رہی تو ملکی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان محاذوں پر کارروائی کی جائے گی۔‘

مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام کے ایک حصے میں یمن میں مزاحمتی محاذ، لبنان میں حزب اللہ اور عراق کی مزاحمتی افواج کا شکریہ ادا کیا۔

اپنے پہلے پیغام میں ملک کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’ہم دشمن سے ہرجانہ وصول کریں گے۔ اگر وہ انکار کرے تو ہم ایسا ہی نقصان دشمن کی املاک کو پہنچائیں گے اور اُن کو تباہ کر دیں گے۔‘

انھوں نے خطے کے ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جیسا کہ ہم نے پہلے خبردار کیا تھا، ہم نے ان ممالک پر حملہ نہیں کیا بلکہ صرف وہاں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے اور آئندہ بھی مجبوراً ہمیں ایسا کرنا پڑے گا۔ اس کے باوجود ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستی کو ضروری سمجھتے ہیں۔‘

مجلسِ خبرگان نے پیر کے روز مجتبیٰ خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کا تیسرا سپریم لیڈر مقرر کیا۔

اسلامی جمہوریہ کے مختلف اداروں جن میں سرکاری، عدالتی، سکیورٹی اور فوجی ادارے شامل ہیں نے ان کے انتخاب کا خیر مقدم کیا اور ان کی حمایت کا اعلان کیا۔

 
 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *