|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

بلوچستان اسمبلی اجلاس: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفرازبگٹی نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ  نیشنل پارٹی نے دہشت گردی کی جنگ کے خلاف نقصان اٹھایا ہے۔ پورا ایوان دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ مقامی زبانیں معدوم ہو رہی ہیں اور ان میں دوسری زبانیں مکس ہو چکی ہیں، جبکہ بہت سے معاملات گرے ایریا میں چل رہے ہیں۔ اکیڈیمز کے آڈٹ میں کئی چیزیں سامنے آئیں اور بورڈ کا ممبر پرنٹنگ کی نگرانی کرے گا۔ یوتھ کو دل برداشتہ کرنے میں ایسی شاعری کا کردار ہے جو ریاست کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، اس لیے حکومت کے پیسوں سے اکیڈیمی میں ایسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی جو ریاست کو نقصان پہنچائیں۔

 

سی ایم ہاؤسز میں 435 خالی اسامیاں تھیں جنہیں ایس اینڈ جی اے کو بھیج دیا گیا ہے جبکہ 12 ارب روپے سے ملازمین کو ہیلتھ انشورنس دی گئی ہے۔ لاپتہ افراد کا معاملہ حساس ہے اور میری جماعت خود اس کا شکار رہی ہے، مگر زمینی حقائق بلوچستان کے لوگوں کو معلوم ہونے چاہئیں۔ کے پی کے میں لاپتہ افراد کی تعداد بلوچستان سے زیادہ ہے اور امریکہ میں بھی 20 ہزار لاپتہ افراد ہیں، کون ثابت کرے گا کہ ان کو اداروں نے لاپتہ کیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں بلوچستان میں امن و امان بحال ہو۔ جب مخالف تذلیل کرے تو روایات کہاں رہ جاتی ہیں، جو عزت کرے گا اس کی عزت کریں گے اور جو بے عزتی کرے گا اس کا جواب دیا جائے گا۔ دہشت گردی سے میرا خاندان بھی متاثر ہے۔

 

اب جو کچھ ہو رہا ہے اس کا حل نکالنے کے لیے قانون پاس کیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کو رکھنے کے لیے دو سینٹر بنائے گئے ہیں اور مقصد اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔ اگر کوئی ادارہ کسی شخص کو اٹھائے گا تو 12 گھنٹے کے اندر اس کے خاندان اور مجسٹریٹ کو اطلاع دینا ہوگی۔ سینٹر میں ایسے افراد کو تین ماہ تک رکھ کر کونسلنگ کی جائے گی اور کوئٹہ میں سینٹر نے کام بھی شروع کر دیا ہے۔ ہم باتیں نہیں بلکہ مسائل حل کرنا چاہتے ہیں اور اب بلوچستان کا کوئی بچہ لاپتہ نہیں ہوگا۔ جن بچوں کو بی ایل اے اٹھا رہی ہے اس کا میں جواب نہیں دے سکتا، بی ایل اے بچوں کی ذہن سازی کر کے بلوچوں کو لاحاصل جنگ کی طرف دھکیل رہی ہے اور دہشت گرد تنظیم نے 190 بلوچوں کو مروا دیا ہے۔ یونیورسٹی سے نکال کر بلوچ نوجوانوں کو خودکش جیکٹ پہنائی جا رہی ہے، یہ کون سی خدمت ہے۔ ہم سب لوگ ایک گلدستہ ہیں۔ جب معصوم لوگوں کو شہید کیا جاتا ہے تو دکھ اور غصہ دونوں ہوتا ہے، جذباتی ہونا فطری عمل ہے۔

 

مذاکرات کے لیے ریاست تیار ہے مگر بندوق کے زور پر بات کرنے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بلوچستان میں سیاست جاری رہے گی مگر حکومت سخت اقدامات بھی کرے گی اور کوشش کریں گے کہ حالات بہتر ہوں۔ سکیورٹی فورسز کو ہماری حمایت چاہیے، حکومت کے ساتھ اپوزیشن کو بھی ساتھ دینا ہوگا۔ اکیڈیمیز کو فنڈز دیے جائیں گے مگر حکومتی پیسے کا غلط استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 7 اپریل تک ملتوی کر دیا گیا۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *