اسلام آباد، پاپولیشن کونسل نے انفارمیشن سروس اکیڈمی (ISA) اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے آبادی (UNFPA) کے اشتراک سے اسلام آباد میں میڈیا کولیشن کا ایک اجلاس منعقد کیا، جس کا مقصد مشترکہ مفادات کونسل (CCI) کے تحت پاکستان کے قومی ایکشن پلان برائے آبادی پر پیش رفت میں میڈیا کے کردار کو اجاگرکرنا تھا۔ اس اجلاس میں سینئر صحافیوں، ابلاغیات کے ماہرین اور سرکاری اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی اور اس بات پر تبادلۂ خیال کیا کہ شواہد پر مبنی رپورٹنگ کس طرح جوابدہی کو فروغ دے سکتی ہے اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق چیلنجز کے بارے میں عوامی شعور میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے حکومتی اقدامات میں بہتری لا سکتی ہے۔
افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے پاپولیشن کونسل کے سینئر ڈائریکٹر ڈاکٹر علی میر نے آبادی اور وسائل کے درمیان توازن لانے کیلئے قومی بیانیے کی تشکیل میں ذمہ دار صحافت کے اہم کردار پر زور دیا۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی ایکشن پلان برائے آبادی پر پیش رفت اسی وقت ممکن ہے جب میڈیا اس پلان پر عمل درآمد میں موجود خلا، خدمات کی فراہمی میں رکاوٹوں اور کمیونٹیز کی زمینی حقیقتوں کو نمایاں کرے۔
انفارمیشن سروس اکیڈمی کے ڈائریکٹر عدنان اکرم باجوہ نے صحافیوں کو مستند معلومات اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنے کے لیے ادارے کے عزم کا اعادہ کیا اور تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے پیدا ہونے والے مسائل کو اجاگر کرنے کیلئے میڈیا کی معاونت کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ۔ ان کے مطابق، “میڈیا صرف پیغام پہنچانے والا ذریعہ نہیں بلکہ قومی سطح پر بیانیہ بنانے کیلئے سب سے اہم ستون ہے ۔ میڈیا کے ذریعے خاندان کے وسائل اور خاندان کی افراد کے درمیان توازن لا کر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جاسکتا ہے ۔”
اپنے خطاب میں پاپولیشن کونسل کے منیجر کمیونیکیشن اکرام الاحد نے پاکستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور تولیدی صحت کے مسائل کے انسانی پہلو کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ خاندانی منصوبہ سازی کی سہولیات تک رسائی میں کمی کے باعث خواتین ، اور خاص طور پر غریب دیہی خواتین میں زچگی کے دوران اموات کی شرح بدستور زیادہ ہے۔ پاکستان میں ہر سال 60 لاکھ غیر ارادی حمل ہوتے ہیں جن میں سے 38 لاکھ اسقاطِ حمل پر منتج ہوتے ہیں، اور ان میں سے بہت سے غیر محفوظ حالات میں انجام پاتے ہیں۔انہوں نے کہا، “یہ اعداد و شمار دراصل سہولیات تک رسائی کے بحران کی نشاندہی کرتے ہیں۔ جب خواتین کو مانعِ حمل ذرائع دستیاب نہیں ہوتے تو وہ اپنی صحت، سلامتی اور مستقبل پر اختیار کھو بیٹھتی ہیں۔”
میڈیا کولیشن کے اراکین ظفر سلطان (پی ٹی وی) اور دانیال عمر (سماء ٹی وی) نے کولیشن کے تمام اراکین کی جانب سے کیا گیا ایک مشترکہ جائزہ پیش کی، جس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور اسلام آباد میں سی سی آئی کے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا تھا۔ اس جائزے میں مختلف صوبوں میں درپیش مسلسل چیلنجز کی نشاندہی کی گئی، جن میں شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان صحت کی سہولیات میں فرق، لیڈی ہیلتھ ورکرز کی کمی، مانعِ حمل ادویات کی فراہمی میں بار بار تعطل، پالیسیوں پر غیر مساوی عمل درآمد اور دور دراز اضلاع میں محدود رسائی شامل ہیں۔
اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ نظام میں موجود خامیوں کو اجاگر کرنے اور صوبائی و وفاقی وعدوں کو عملی نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے مسلسل اور ذمہ دارانہ میڈیا رپورٹنگ ناگزیر ہے۔ صحافیوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی سے پیدا ہونے والے مسائل، خصوصاً دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی میں کمی ، زچگی اور تولیدی صحت کی سہولیات تک محدود رسائی جیسے موضوعات پراعدادوشمار کی بنیاد پر بہتر رپورٹنگ کی جائے تاکہ عوامی آگاہی اور پالیسی سطح پر جوابدہی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر جمیل احمد چوہدری، پروگرام اسپیشلسٹ، یو این ایف پی اے، نے خواتین اور بچیوں کی صحت اور حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا،“ہر وہ ماں یا نومولود جس کی موت کو روکا جا سکتا تھا، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اس حوالے سے فوری اقدامات ہم سب کی ذمہ داری ہیں۔”
اجلاس اس مشترکہ عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ میڈیا، سرکاری اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا تاکہ پاکستان میں تولیدی صحت اور آبادی سے متعلق قومی اہداف کے حصول کی رفتار تیز کی جا سکے۔
قومی ایکشن پلان برائے آبادی کی تکمیل کیلئے صوبوں کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے، میڈیا کولیشن اجلاس
![]()
وقتِ اشاعت : 2 hours پہلے
Leave a Reply