|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ : بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی بیان میں مادری زبانوں میں شاعری کو حکمرانوں کی جانب سے خطرہ قرار دینے کے اقدام پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک امر ہے کہ سرفراز بگٹی اپنی ہی مادری زبان اور اس کے ادبی ورثے کے خلاف اس طرح کے بیانات دے رہا ہے۔

شاید تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ کوئی شخص اپنی زبان اور ثقافت کو ہی قصوروار ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

بلوچ شاعری صدیوں سے امن، شعور، محبت، مزاحمت اور سماجی انصاف کی آواز رہی ہے۔ اس ادب نے بلوچ قوم کی تاریخ، ثقافت اور اجتماعی احساسات کو محفوظ رکھا ہے۔

شاعری پر پابندی لگانے یا ادبی اکیڈمیوں کو محدود کرنے کی بات دراصل اظہارِ رائے کی آزادی اور ثقافتی شناخت پر حملہ ہے، جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے بیان میں کہا گیا کہ موجودہ حکمران جو کہتے تھے کہ لاپتہ افراد تو دو بھی نہیں ہیں اب خود اعتراف کر چکے کہ لاپتہ افرادایک مسئلہ اور اب انہیں قائم کردہ مراکز میں رکھا جائیگا بیان میں کہا گیا کہ آج سے پہلے جو ہزاروں بلوچ لاپتہ ہیں ان کو لاپتہ کرنے والوں اور ذمہ داروں کا تعین کون کریگا بیان میں کہا گیا ہے کہ فارم 47کے حکمران اپنی شاہ خرچیوں کو کم کرنے کی بجائے کفایت شعاری کے نام پر عوام کو بیروزگار کر رہے ہیں

800آسامیوں کا خاتمہ کسی صورت درست اقدام نہیں بیان میں کہا گیا کہ گڈ اور بیڈ بلوچ کے تفریق نے نوجوانوں کو پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچا دیا ہے مادری زبانوں کی ترقی و ترویج کیلئے قائم اکیڈمیز کے فنڈز کی بندش ، تعلیمی اداروں کے دروازے بلوچستانی عوام کیلئے بند کرنے جیسے اقدامات سے قابض حکومت ثابت کر چکی ہے کہ وہ بلوچستانی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کچھ نہیں کرنا چاہتے ان کا مقصد صرف اپنے مفادات کی تکمیل ہے بلوچ سوال کا حل سیاسی ہے

طاقت کا استعمال نہیں ، نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے ، تعلیمی انقلاب لانے جیسے حکومتی دعوے محض دعوے سے ثابت ہوں گے بیان میں کہا گیا کہ اکیسویں صدی میں بلوچستانی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ممکن نہیں سوشل میڈیا پر پارٹی قیادت کے خلاف کی جانے والی من گھرٹ باتوں ، دعووں سے عوام کو گمراہ کرنا ممکن نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *