امریکہ اوراسرائیل کا ایران پر حملے جاری ہیں۔اس جنگ کو خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کا اہم مقصد قرار دیا جارہا ہے جبکہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی بھی نیت ہے۔
امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کو ایٹمی ہتھیار وںکے حصول سے روکنے کا جواز قرار دیا جارہا ہے مگر یہ جنگ جیو پولیٹکل کا بڑا گیم ہے جس میں خطے پر اپنی اجارہ داری اور وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔
بہرحال ایران کی جانب سے جوابی حملے بھی جاری ہیں۔
اس جنگ کے طول پکڑنے کا خدشہ ہے جس سے پورا خطہ متاثر ہوگا، مذاکرات کے فی الحال کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے، دونوںطرف سے طاقت کا بھرپور استعمال جاری ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی بندش سے معیشت پر برے اثرات مرتب ہورہے ہیں۔
اس جنگ نے امن اور معیشت کو بڑے خطرات میں ڈال دیا ہے۔
موجودہ حالات میں ایران کی جانب سے جنگ بندی کے متعلق اہم بیان سامنے آیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسرائیل اور امریکا سے جنگ بندی کیلئے 3 شرائط رکھ دیے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران کے آئینی حقوق تسلیم کیے جائیں ، جنگ میں ایران کے نقصانات کا ہرجانہ ادا کیا جائے ، اور آئندہ ایران کے خلاف جارحیت نہیں ہوگی، عالمی طاقتیں اس کی ضمانت دیں۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہاکہ انہوں نے روسی صدر اور پاکستانی وزیراعظم سے بات چیت کے دوران خطے میں امن کے لیے ایران کے عزم کو ایک مرتبہ پھر دْہرایا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کو نشانہ بنایا گیا تو علاقائی ممالک کی بندرگاہوں کو بھی نشانہ بنایاجائیگا، کوئی بھی ملک خود کو اس بحران سے نہیں نکال سکتا، ہم دشمن پر بھروسہ نہیں کرتے، فتح حاصل کرنے تک نہیں رکیں گے۔
پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا ہے کہ دشمنوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ ایران کے حملے جاری رہیں گے۔
ادھر امریکی اخبارسے گفتگو کرتے ہوئے پینٹاگون حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت آبنائے ہرمز میں جنگی جہاز بھیجنا انتہائی خطرناک ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو کبھی ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے نہیں دیں گے۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں امریکی صدر نے ایران کو بدی کی سلطنت بھی قرار دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، جب بھی تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں امریکا بہت پیسے بناتا ہے، لیکن صدر کی حیثیت سے میرے لیے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ایران کو مشرقِ وسطیٰ اور دنیا کو تباہ کرنے سے روکا جائے۔
امریکی جریدے کے مطابق صدر ٹرمپ کا ایران سے جنگ اگلے تین چار ہفتے جاری رکھنے کا ارادہ ہے جس کے بعد وہ اگلے اقدامات کا کوئی فیصلہ کریں گے۔
بہرحال امریکہ اور اسرائیل اپنے اہداف کا حصول چاہتے ہیں اور جنگ بندی کے حوالے سے کوئی بھی مثبت پیشرفت اور بیان دونوں ممالک کی جانب سے تاحال سامنے نہیں آیا ہے بلکہ مزید شدت کے ساتھ ایران پر حملوں کی دھمکی دی جارہی ہے جبکہ ایران نے بھی جوابی حملوں میں تیزی لانے کا عندیہ دیا ہے۔
ایران کی جانب سے مشروط جنگ بندی پر فی الحال امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور اس کی امید بھی نہیں ہے۔
تاہم جنگ سے تباہی پھیلی گی علاقائی ممالک سب سے زیادہ متاثر ہونگے۔
Leave a Reply