کوئٹہ: پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سینئر ایڈووکیٹ سید آغا ظہور شاہ، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ارباب فیاض، سینئر ایڈووکیٹ و سابق صدر پیپلز لائرز فورم بلوچستان انوار الحق کاکڑ اللہ والا، سینئر ایڈووکیٹ زعفران علی خان لونی، سینئر ایڈووکیٹ گل جتوئی، ایڈووکیٹ عدنان ابڑو، ایڈووکیٹ کامران، سینئر ایڈووکیٹ انور کاکڑ، سینئر ایڈووکیٹ شراف الدین، سینئر ایڈووکیٹ حمید کاکڑ، ایڈووکیٹ کلیم اللہ محمد شیخ، ایڈووکیٹ وزیر، ایڈووکیٹ تنویر شاہ وانی، ایڈووکیٹ علی خان کاکڑ، ایڈووکیٹ خالد خان اچکزئی، ایڈووکیٹ ہارون آفاق، ایڈووکیٹ نصر اللہ کاکوزئی، ایڈووکیٹ ریحان بابر، ایڈووکیٹ سمیع کاکڑ، ایڈووکیٹ غفار رند، ایڈووکیٹ ریحانہ، ایڈووکیٹ مولا داد بریچ، ایڈووکیٹ شراف الدین کاکڑ، ایڈووکیٹ شمس الدین کاکڑ، ایڈووکیٹ معین کاکڑ، ایڈووکیٹ ریحان جکرانی و دیگر نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ پیپلز لائرز فورم کی موجودہ صوبائی کابینہ جو مسلط شدہ حیثیت میں فورم پر قابض بیٹھی ہوئی ہے، اس نے پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان کے آفس میں حالیہ اعلان کردہ آسامیوں پر ابھی سے بندربانٹ اور مبینہ لین دین کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
بلکہ خود کار طریقے سے بااثر افراد کو انکے من پسند افراد کے نام مانگے جارہے ہیں جس سے خاص طور پر پیپلز لائرز فورم کو جیسا کہ لپ ٹاپ میں نظر انداز کیا گیا ایسا ہی ہمارے ساتھیوں کو نوجوان ووکلا جنہوں پچھلے سالوں سے پارٹی کے لئے قربانیاں دی ہے اگر اس دفع پھر ہمارے پارٹی کے حقیقی نظر یاتی ووکلا کو بائی پاس کیا گیا تو ہم انشاء اللہ بھر پور اتیجاج اور پریس کانفرنس کریں گے۔ اسلئے ہمیں باوثوق ذرائع سے اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ مختلف آسامیوں کے لیے غیر رسمی طور پر بولیوں کا آغاز کر دیا گیا ہے اور لاکھوں روپے کے مطالبات کیے جا رہے ہیں، جو کہ انتہائی شرمناک، قابل مذمت اور نوجوان وکلاء کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسلط شدہ کابینہ شروع دن سے میرٹ کے خلاف فیصلے کرتی آئی ہے اور اب پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان کے آفس کی بھرتیوں میں بھی من پسند افراد کو نوازنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
انہوں نے پارٹی کی اعلی قیادت صوبائی کابینہ۔ وزیر اعلی بلوچستان اور تمام ذمہ ار افراد سے مطالبہ کیا کہ تمام بھرتیوں کا عمل مکمل طور پر شفاف بنایا جائے ایسا نہ ہو کہ جس طرح ہمارے ووکلا کے لپ ٹاپ سندھ پنجاب میں بطور تحفہ بیجے گئے اور دیگر افسران کو بطور تحفہ پیش کیا گیا یہاں ڈر اسی بات کی ہے ان پوسٹوں پر جو بندر بانٹ جاری ہے
اسکی بنیاد موجودہ نا اھل اور غیر آئینی پیپلز لائرز فورم کی سلط شدہ کابینہ ہے جس کو فوری طور پر اس عمل سے الگ کیا جائے، اور مبینہ مالی لین دین لپ ٹاپ کی فروخت۔تحفہ جات اور غیر پارٹی ووکلا کو نواز نے اور اپنے پارٹی کے حقیقی قربانی دینے والے ووکلا کو نظر انداز کر کے اور بندربانٹ کی فوری تحقیقات کرائی جائیں، بصورت دیگر نوجوان وکلاء احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر نوجوان وکلاء کے ساتھ ناانصافی کا سلسلہ بند نہ ہوا اور اس غیر آئینی پیپلز لائرز فورم بلوچستان کی تنظیم نو نا کی گئی تو اس کے خلاف عید الفطر کے بعد تمام پیپلز پارٹی کے حقیقی نظر یاتی ووکلا بھرپور قانونی، جمہوری اور تنظیمی احتجاج کیا جائے گا اور ہر فورم پر اس معاملے کو اٹھایا جائے گا۔
Leave a Reply