|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ: امیر جماعت اسلامی بلوچستان و رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں کئی دنوں سے پیٹرول، ڈیزل کی شدید قلت اور بارڈرز کی بندش نے عوام کی زندگی مفلوج کر دی ہے۔ حکومت بلوچستان کی نااہلی اور ناکام پالیسیوں کا خمیازہ غریب عوام بھگت رہے ہیں۔ صوبے کے مختلف شہروں میں ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہے، کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہو چکی ہیں اور عام آدمی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو سری نگر بنا کر تھانے میں تبدیل کر دیا گیا ہے، ہر طرف خوف، دہشت اور کرفیو کا سماں ہے۔ حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے اور عوام خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں۔

سڑکوں پر چیک پوسٹوں کی بھرمار ہے جبکہ شہریوں کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی ہے۔

اس صورتحال نے نہ صرف عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے بلکہ کاروبار، تجارت اور روزگار کے مواقع بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔

مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے کہا کہ حکومت خاموش تماشائی بننے کے بجائے عوام کی مشکلات اور مسائل کو سنجیدگی سے حل کرے، امن و امان کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے اور بارڈرز کھول کر کاروبار و تجارت بحال کی جائے تاکہ ہزاروں خاندانوں کا روزگار دوبارہ چل سکے۔ بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں ہزاروں افراد کا روزگار بارڈر ٹریڈ سے وابستہ ہے، بارڈرز کی مسلسل بندش سے غریب مزدور، چھوٹے تاجر اور ٹرانسپورٹر سخت پریشانی کا شکار ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی، بے روزگاری اور ایندھن کی قلت نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ مریض ہسپتالوں تک پہنچنے میں مشکلات کا شکار ہیں جبکہ تعلیمی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ طاقتور طبقات کے حکم پر عمل کرنے کے ساتھ ساتھ عوام کے دکھ درد کو بھی محسوس کرے،

کیونکہ صرف جی حضوری اور اوپر سے آنے والے احکامات پر عمل درآمد سے عوام کا پیٹ نہیں بھرتا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے، غیر ضروری پابندیاں ختم کی جائیں، بارڈر ٹریڈ کو بحال کیا جائے اور بلوچستان کے عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تاکہ صوبے میں معمولات زندگی بحال ہو سکیں۔ بصورت دیگر عوامی ردعمل میں اضافہ ہوگا اور حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *