|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی و صوبائی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ امن و امان، افغان مہاجرین کی واپسی، حوالہ ہنڈی، بھتہ خوری اور اسمگلنگ کے خاتمے سمیت اہم امور پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

چیئرمین نادرا، ڈی جی ایف آئی اے، ڈی جی این سی سی آئی اور آئی جی فیڈرل کانسٹیبلری نے اجلاس کو متعلقہ امور پر بریفنگ دی۔

بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے فیڈرل کانسٹیبلری کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں فیڈرل کانسٹیبلری کے دو ونگز پر مشتمل تقریباً تین ہزار اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

اجلاس میں بلوچستان میں ایف آئی اے کو مزید فعال بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور تمام خالی آسامیوں پر مقامی افراد کی بھرتی کی جائے گی۔

حکومت بلوچستان اور وفاقی حکومت نے سوشل میڈیا پر ریاست مخالف سرگرمیوں کی مانیٹرنگ کو مؤثر بنانے پر اتفاق کیا۔ ریاست کے خلاف سوشل میڈیا پر بے بنیاد پروپیگنڈوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان حکومت کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان پولیس کی پیشہ ورانہ استعداد کار میں اضافے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ بلوچستان کے حالات سے مکمل آگاہ ہیں اور امن کے قیام کے لیے ہر ممکن معاونت کریں گے۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت اور عزم کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سیکیورٹی فورسز نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ روز اول واضح کر چکے ہیں کہ ریاست کی عمل داری ہر صورت یقینی بنائیں گے اور آج بلوچستان کی کوئی شاہراہ احتجاج کے نام پر بند نہیں ہوتی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بحالی امن کے لیے وفاقی حکومت کی معاونت کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی یکجہتی سے دہشت گردی کو شکست دیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *