|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

گوادر : مکران کوسٹل ہائی وے خونی شاہراہ بن گئی، تین ماہ میں درجنوں افراد جاں بحق ،متعدد زخمی، حادثات میں مسلسل اضافہ ،متعلقہ ادارے وجوہات جاننے اور روک تھام میں ناکام، سڑک کی خراب حالت ،حفاظتی اقدامات کی کمی ، تیز رفتاری، ڈرائیورز کی غفلت،سائن بورڈز کی عدم موجودگی اور خطرناک موڑ حادثات کی بڑی وجہ قرار دی جارہی ہیں،تفصیلات کے مطابق بلوچستان کی اہم شاہراہ مکران کوسٹل ہائی وے پر ٹریفک حادثات میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے،

جس کے باعث گزشتہ تین ماہ کے دوران درجن سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ شاہراہ، جو خوبصورتی کے باعث ملک بھر میں مشہور ہے اب شہریوں کے لیے خوف کی علامت بنتی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق مکران کوسٹل ہائی وے پر پیش آنے والے زیادہ تر حادثات تیز رفتاری، ڈرائیورز کی غفلت، سڑک کی خراب حالت اور حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث رونما ہو رہے ہیں۔

بعض مقامات پر سائن بورڈز کی عدم موجودگی اور خطرناک موڑ بھی حادثات کی بڑی وجہ قرار دیے جا رہے ہیں۔مقامی افراد اور مسافروں کا کہنا ہے کہ متعلقہ ادارے بارہا شکایات کے باوجود اس اہم مسئلے کو سنجیدگی سے حل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

ان کا مطالبہ ہے کہ شاہراہ پر فوری طور پر حفاظتی اقدامات کیے جائیں، جن میں رفتار کو کنٹرول کرنے کے لیے چیک پوسٹس، بہتر سائن ایج، اور سڑک کی مرمت شامل ہیں۔عوامی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ مکران کوسٹل ہائی وے کو محفوظ بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ مزید حادثات سے بچا جا سکے۔ان کے مطابق اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع جاری رہنے کا خدشہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *