|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

کوئٹہ :  پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے جاری کردہ پریس ریلیز میں سندھ کے شہر سکھر میں پشتون سیاسی رہنما اور سابق رکنِ قومی اسمبلی علی وزیر پر سندھ پولیس اور سادہ لباس میں ملبوس مسلح اہلکاروں کی جانب سے دھاوا بول کر انہیں زبردستی حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کرنے کے عمل کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

بیان میں اس اقدام کو غیر قانونی، غیر آئینی اور اغوا نما کارروائی قرار دیتے ہوئے اسے ریاستی جبر کی ایک بدترین مثال کہا گیا ہے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ علی وزیر گزشتہ تقریبا 19 ماہ تک بے گناہ جیل میں قید رہے اور بالآخر سندھ ہائی کورٹ کی جانب سے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا گیا۔

تاہم رہائی کے فورا بعد، جب وہ سکھر میں افطاری کے بعد موجود تھے، تو خفیہ اداروں اور سندھ پولیس کے اہلکاروں نے ایک بار پھر انہیں غیر قانونی اور غیر آئینی طریقے سے حراست میں لے لیا۔

اس عمل کو نہ صرف آئین و قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا بلکہ اسے عدالتی فیصلے کی کھلی توہین بھی کہا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ افسوسناک واقعہ اس تلخ حقیقت کو ایک بار پھر بے نقاب کرتا ہے کہ ریاستی جبر، سیاسی دبا اور طاقت کے استعمال کے ذریعے عوامی اور جمہوری آوازوں کو دبانے کی کوششیں جاری ہیں۔

ایک منتخب عوامی نمائندے کو اس طرح بندوقوں کے سائے میں اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کرنا بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی اور جمہوری اقدار کے منافی عمل ہے، جو کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے اپنے بیان میں سندھ پولیس کے کردار پر بھی سخت تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا کہ سندھ میں برسرِ اقتدار حکومت، جو خود کو جمہوریت اور آئین کی علمبردار کہتی ہے، اس واقعے کے ذریعے جمہوری اصولوں اور قانون کی حکمرانی کے برخلاف اقدامات میں ملوث دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی کارکنوں اور منتخب نمائندوں کے ساتھ اس نوعیت کا سلوک ایک تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔

بیان میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ اس قسم کے اقدامات دراصل ان آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش ہیں جو آئینی حقوق، مساوات اور انصاف کے لیے اٹھائی جاتی ہیں۔ تاہم تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جبر، دبا اور طاقت کے ذریعے عوامی شعور اور جدوجہد کو کبھی مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر علی وزیر کے بارے میں قوم کو آگاہ کیا جائے کہ وہ کہاں ہیں،

کس ادارے کی تحویل میں ہیں اور انہیں کس بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کی جان و سلامتی کو یقینی بنایا جائے اور انہیں بلا تاخیر عدالت کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ قانون کے تقاضے پورے ہو سکیں۔ آخر میں پارٹی نے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھی جائے گی، اور کسی بھی صورت میں حق، انصاف اور عوامی وقار کی آواز کو دبنے نہیں دیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *