|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

وزیراعلیٰ بلوچستان سرفرازبگٹی کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز نے خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کرکے کئی معصوم جانیں بچالیں، ایک معصوم کو خودکش حملے کے لیے تیار کیا گیا، نوجوانوں کو جس طرف لے جایا جا رہا ہے، یہ بلوچ روایت نہیں، بلوچستان کے لوگ دہشت گردی کو قبول نہیں کرتے، حکومت اپنے بیانیے پر کھڑی ہے کہ بلوچوں کو لاحاصل جنگ میں ڈالا گیا ہے، نوجوانوں کو دہشت گردی سے بچانا ہے۔

بدھ کے روز وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے بلوچستان میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کیا ہے، خودکش حملے کے لیے ایک معصوم کو تیار کیا جارہا تھا، سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرکے بلوچستان کو محفوظ بنایا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے خاتون خودکش بمبار کو گرفتار کرنے پر سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بروقت کارروائی سے کئی معصوم جانیں بچائی گئیں، یہ کارروائی بلوچستان میں امن و سلامتی کے لیے اہم ہے۔

گرفتار خاتون لائبہ نے نیوز کانفرنس میں اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ ضلع خضدار سے تعلق رکھتی ہے اور اسے طالبان کمانڈر ابراہیم نے خودکش بمباری کے لیے ذہن سازی کے بعد تیار کیا، ان کی باتوں سے متاثرہوکر میں خودکش بننے پر راضی ہوئی۔

لائبہ نے مزید بتایا کہ مجھے خودکش مشن کے لیے تیار کیا گیا تھا لیکن گرفتار ہوگئی۔ مجھے ٹارگٹ دیا گیا تھا کہ مزید لڑکیوں کو خود کش حملوں کے لیے تیار کروں لیکن میں تمام خواتین سے کہتی ہوں ایسی دہشت گرد کارروائیوں سے دور رہیں۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ لائبہ کی کہانی سب کے سامنے ہے اور اس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد عناصر بلوچ خواتین کا استحصال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ ہے، بلوچستان کے عوام دہشت گردی کو قبول نہیں کرتے اور نوجوانوں کو جس راستے پر ڈالا جا رہا ہے وہ بلوچ روایات کے خلاف ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان کو لاحاصل جنگ میں دھکیلا جا رہا ہے اور بلوچیت کے نام پر لوگوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے جب کہ ریاست کے خلاف منظم انداز میں کارروائیاں کی جا رہی ہیں، سیکیورٹی اداروں کی کامیاب کارروائی نے بڑی تباہی سے بچا لیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپنے بیانیے پر قائم ہے اور نوجوانوں کو دہشت گردی سے بچانا ضروری ہے، پاکستان کے خلاف لائبہ کو استعمال کیا جانا تھا تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے اس منصوبے کو ناکام بنایا۔

سرفراز بگٹی نے کہا کہ حکومت نے صرف بیانات نہیں دیے بلکہ لاپتہ افراد کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات کیے ہیں جب کہ افغان مہاجرین کی واپسی بھی ریاست کا فیصلہ ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر نے بلوچ معاشرے میں خواتین کے احترام کو نقصان پہنچایا ہے تاہم سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے امن و امان کی صورت حال بہتر ہوئی ہے۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *