ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے۔ ایرانی حکام نے علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق کردی، ایرانی میڈیا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملے میں علی لاریجانی کے بیٹے مرتضیٰ بھی شہید ہوگئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق علی لاریجانی کومشرقی تہران میں نشانہ بنایاگیا، وہ تہران کے مشرق میں اپنی بیٹی سے ملنے گئے ہوئے تھے۔
اسرائیل نے گزشتہ روز ایران کی قومی سلامتی کے مشیر علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا، اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ علی لاریجانی کو تہران میں ایک مقام پر نشانہ بنایا گیا جس میں ایران کی داخلی سکیورٹی فورس بسیج کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی بھی مارے گئے۔
ادھر قطر کی حمد بن خلیفہ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی کے سینئر پروفیسر سلطان برکات کے مطابق ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی کی شہادت سے جنگ کے سفارتی حل تک پہنچنا مزید مشکل اور طویل ہو جائیگا۔
عرب میڈیا کے مطابق پروفیسر سلطان برکات کا کہنا ہے کہ لاریجانی کی شہادت ایرانی نظام میں سخت گیر عناصر کو مضبوط کرے گی اور ساتھ ہی سفارتی حل فی الحال کچھ مزید دور ہوجائیگا۔
پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کی شہادت پر رد عمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ عظیم شہید اور دیگر شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔
پاسداران انقلاب نے علی لاریجانی کو ایک ممتاز شخصیت، مفکر اور انقلابی رہنما قرار دیا اورکہا کہ شہید علی لاریجانی کا خون، دیگر شہدا کی طرح، عزت، طاقت اور قومی بیداری کا سبب بنے گا۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ وہ علی لاریجانی اور دیگر شہدا کے خون کو ہرگز نہیں بھولیں گے اور اس کے نتائج سامنے آئیں گے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے علی لاریجانی کی شہادت کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے جارہے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کو درست فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملہ نہ کرتے تو وہ اب تک ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہوتا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم نے ایران کی فضائیہ اور نیوی کو مکمل تباہ کردیا ہے اور ہم اپنے شیڈول سے بہت آگے جارہے ہیں۔
بہرحال اب امریکہ اسرائیل ایران جنگ کی طوالت اختیار کرنے کے خدشات بڑھ رہے ہیں ،اب ایران کی جانب سے بھی حملوں میں شدت آئے گی جس کے اثرات خلیجی ممالک پر پڑینگے ۔
ایران نے کسی بھی مذاکرات کی پیشکش کو فی الحال مسترد کردیا ہے اور بھرپور جوابی حملوں کا عندیہ دیا ہے جو خطے کو ایک خطرناک جنگ کی طرف دھکیلے گا جس سے مشرق وسطیٰ سمیت عالمی امن کو شدید خطرات لاحق ہونگے۔ دنیا کے بڑے ممالک سمیت عالمی اداروں نے اگر متحرک کردار ادا نہ کیا، امریکہ پر دباؤ نہ بڑھایا تو جنگ پھیلتی جائے گی جس سے امن اور معیشت دونوں متاثر ہوںگی ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ عالمی ادارے اور ممالک موجودہ جنگی حالات کو روکنے کیلئے کون سے چینلزکا استعمال کریں گے جس سے جنگ بندی میں پیشرفت کے امکانات پیدا ہو ںتاکہ خطے سمیت عالمی ممالک محفوظ رہیں۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی کی شہادت، ایران کا مذاکرات سے انکار، مشرق وسطیٰ اور عالمی امن کیلئے بڑھتے چیلنجز!
![]()
وقتِ اشاعت : 2 hours پہلے
Leave a Reply