|

وقتِ اشاعت :   2 hours پہلے

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران کی حکومت کمزور ضرور ہوئی ہے، تاہم اب بھی قائم ہے اور خطے میں امریکی و اتحادی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سالانہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران ایران کا نظام متاثر ہوا ہے، مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اتحادی مفادات پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگر موجودہ حکومت برقرار رہی تو وہ آئندہ برسوں میں اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔

اجلاس کے دوران امریکی کانگریس کے بعض ارکان، خصوصاً ڈیموکریٹک سینیٹرز، نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے بارے میں کانگریس کو مکمل طور پر آگاہ نہیں رکھا گیا، جبکہ اس جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

سماعت میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ جو کینٹ نے جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، جو اس تنازع کے باعث ٹرمپ انتظامیہ میں کسی اعلیٰ عہدیدار کا پہلا بڑا استعفیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایران طویل عرصے سے امریکہ کے لیے خطرہ رہا ہے اور موجودہ وقت میں بھی فوری خطرہ تھا۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شدید نقصان پہنچا، تاہم انٹیلیجنس اداروں کا خیال ہے کہ تہران اپنی متاثرہ تنصیبات کی بحالی کی کوشش کر رہا ہے۔

قانون سازوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے سے قبل کس نوعیت کی انٹیلیجنس معلومات فراہم کی گئیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرنے سمیت خطے میں جوابی کارروائیاں کر سکتا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق امریکی انٹیلیجنس حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے بعد ایران کی حکومت کمزور ضرور ہوئی ہے، تاہم اب بھی قائم ہے اور خطے میں امریکی و اتحادی مفادات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

امریکی ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلیجنس تلسی گبارڈ نے سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے سالانہ اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران ایران کا نظام متاثر ہوا ہے، مگر مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور اس کے اتحادی گروہ اب بھی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اتحادی مفادات پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اگر موجودہ حکومت برقرار رہی تو وہ آئندہ برسوں میں اپنے میزائل اور ڈرون پروگرام کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کرے گی۔

اجلاس کے دوران امریکی کانگریس کے بعض ارکان، خصوصاً ڈیموکریٹک سینیٹرز، نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کے بارے میں کانگریس کو مکمل طور پر آگاہ نہیں رکھا گیا، جبکہ اس جنگ پر امریکی ٹیکس دہندگان کے اربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں۔

سماعت میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ جو کینٹ نے جنگ کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا، جو اس تنازع کے باعث ٹرمپ انتظامیہ میں کسی اعلیٰ عہدیدار کا پہلا بڑا استعفیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ ضمیر کے مطابق جاری جنگ کی حمایت نہیں کر سکتے۔

دوسری جانب سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ایران طویل عرصے سے امریکہ کے لیے خطرہ رہا ہے اور موجودہ وقت میں بھی فوری خطرہ تھا۔

امریکی حکام کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں شدید نقصان پہنچا، تاہم انٹیلیجنس اداروں کا خیال ہے کہ تہران اپنی متاثرہ تنصیبات کی بحالی کی کوشش کر رہا ہے۔

قانون سازوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھائے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے سے قبل کس نوعیت کی انٹیلیجنس معلومات فراہم کی گئیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایران آبنائے ہرمز بند کرنے سمیت خطے میں جوابی کارروائیاں کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *