کوئٹہ: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اورحکومت کی 60روزہ کارکردگی مایوس کن ہے ،چہرے بدل گئے لیکن نظام نہیں بدلا۔
سی پیک پر سب سے بڑا حق گوادر اور بلوچستان کے عوام کا ہے مگر گوادر پانی سے بھی محروم ہے ۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کو ختم یا کمزور کرنا پاکستان کے حق میں نہیں ہے۔ کوئٹہ میں صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہا شمی اور دیگر عہدے داروں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ موجودہ حکومت کے ابتدائی ساٹھ روز کی کارکردگی مایوس کن ہے ۔
مہنگائی میں اضافہ اور عوام کا اعتماد مجروح ہوا ۔ثابت ہو گیا کہ موجودہ حکمرانوں کو اقتدار بغیر ہوم ورک کے دیا گیا۔ صبح حکومت کچھ کہتی ہے شام کو تردید کر دی جاتی ہے،حکومت کو سو دن پورے کرنے دئیے جائیں ہم حکومت کو آئینہ دکھانے کا کام کر رہے ہیں۔
مخصوص ٹولہ مارشل لاء اور جمہوریت دونوں میں فائدہ اٹھاتا ہے،شفاف انتخابات ہوتے تو پچیس جولائی کو نتیجہ مشکل ہو گا۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ احتساب سب کا بلا تفریق اور دن کی روشنی میں ہونا چاہیے ،حکومت خود تلخیوں میں اضافہ کر رہی ہے۔
عمران خان نے جن پچاس سیاسی مجرموں کا دعویٰ کیا ان کی لسٹ جاری کرے۔مجرموں کو انجام تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے ،جماعت اسلامی حکومتی ایکشن کی منتظر ہے۔انہوں نے کہا کہ نیب پاکستان کا لوٹا پیسہ واپس لانے کے لئے اقدامات کرے ،لوٹا پیسہ واپس لا کر قرض کی ادائیگی اور ڈیم بنانے پر خرچ کیا جائے ،ملک کو ٹھیکے پر دینے کی ضرورت نہیں ،مس منیجمنٹ ختم کی جائے ٹیکس تو کیا ہماری ماں اور بہینں پاکستان کے لیے زیور دینے کے لئے تیار ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلوچستان میں بے یقینی ہے ،کراچی اور لاہور کی نسبت کوئٹہ میں مہنگائی زیادہ ہے ،پاک افغان بارڈر دو روز بند ہونے سے لوگوں کا روز گار متاثر ہوا، بلوچستان کے لوگ گیس ،پانی، بجلی سے محروم ہیں بلوچستان میں ناخواندگی چونسٹھ فیصد ،بچے غذائی قلت کا شکار ہیں، خشک سالی کی وجہ سے زراعت متاثر ہو رہی ہے،کوئٹہ میں امن وامان کی صورتحال مخدوش ہو چکی ہے ۔
شہری گھروں کی دیواریں اونچی اور خاردار تاریں لگا رہے ہیں، شہریوں کو صفائی اور صحت کی سہولیات میسر نہیں ، ترقیاتی بجٹ کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ سی پیک سے غریب علاقوں کو فائدہ دیا جائے بلوچستان کی حکومت اور عوام کو سی پیک کے حقائق سے آگاہ کیا جائے گوادر سی پیک کا دل ہے ۔
لیکن وہاں کے لوگوں کو پانی میسر نہیں گوادر کی خوشحالی پر سب سے پہلا حق وہاں کے عوام کا ہے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بلوچستان میں صرف 23 فیصد لوگوں کو پانی دستیاب ہے صوبے میں بے روزگاری عروج پر ہے جبکہ 35 ہزار آسامیاں خالی پڑی ہیں حکومت کے کوئٹہ شہر کو خوبصورت بنانے کے دعوے محض خواب ہیں ۔
بلوچستان میں امن کیلئے 30 ارب روپے رکھے جاتے ہیں مگر بے یقینی کی صورتحال برقرار ہے ملک میں سب سے زیادہ 66 فیصد کرپشن بلوچستان میں ہورہی ہے صوبے کا سب سے بڑا مسیلہ کرپشن ہے ۔
انہوں نے کہ اکہ 18ویں ترمیم کے خاتمے کا منصوبہ بنایا جارہاہے 18ویں ترمیم کے نتیجے میں چھوٹے صوبوں کو حقوق ملے، اسے ختم یا کمزور کرنا ملک کے حق میں نہیں ۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے قوم کے ساتھ بہت سارے وعدے کئے تھے تحریک انصاف کی اب تک کی کارکردگی سے لگتا ہے کہ انکا کوئی وژن نہیں موجود وفاقی کابینہ میں زیادہ تر لوگ مشرف دور کے ہیں ۔
آئی ایم ایف کے پاس جانے سے موجودہ اور آئندہ نسلیں مزید قرضوں میں دب جائیں گی قرضے لیکر نظام چلانا معاشی منصوبہ نہیں ہوسکتاغیر ترقیاتی اخراجات ختم کریں، وزرا کی تعداد کم کریں عوام کا اعتماد بحال کیا جائے ورنہ کوئی ٹیکس نہیں دے ۔انہوں نے کہاکہ ضمنی انتخابات میں تحریک کئی حلقوں سے ہاری ہے اگر آزاد الیکشن ہوتے تو 25 انتخابات کے نتائج مختلف ہوتے ۔
سی پیک پر پہلا حق بلوچستان کا ہے مگر گوادر کے عوام تو پانی کو ترستے ہیں ، سراج الحق
![]()
وقتِ اشاعت : October 23 – 2018