کوئٹہ: ضمنی انتخاب میں منتخب ہونیوالے سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم خان رئیسانی نے صوبائی اسمبلی کے رکن کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔ ایوان سے اپنے پہلے خطاب میں نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ انتخابات میں اغواء برائے ووٹ کے کئی واقعات ہوئے۔
گوادر پر بلوچستان کے حق پر کوئی گڑبڑ ہوئی تو اس کا جواب بھی گڑبڑ سے دیا جائیگا۔ نواب محمد اسلم خان رئیسانی کا کہنا تھا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے کہ کہ تیس سالوں سے منتخب ہوتا آرہا ہوں ۔پہلی دفعہ منتخب ہوا تو نواب محمد اکبر بگٹی، نوا ب محمد خان باروزئی وغیرہ ایوان میں ہمارے بزرگ تھے۔
اس وقت سے ایوان میں منتخب ہوتا آرہا ہوں اور عوام کی خدمت کرتا آرہا ہوں۔ 88میں پاکستان نیشنل پارٹی میں شامل رہا مگر میں قوم پرست نہیں ہوں۔ اللہ کا غلام ،بلوچ اور پشتون قوم کا خادم ہوں۔
نواب اسلم رئیسانی نے کہ اکہ یہاں باپ پارٹی کے دوست موجود ہیں جنہیں اچھی طرح پتہ ہے کہ کس طرح یہ انتخابات ایک بریگیڈصاحب نے کروائے اور کتنی دھاندلی ہوئی۔ انہوں نے کہاکہ ایک اغواء برائے تاوان ہوتا ہے مگر یہاں انتخابات میں اغواء برائے ووٹ کے واقعات ہوئے۔
لوگوں کو اغواء کرکے کہا گیا کہ آپ کا بندہ ہمارے پاس ہے اوراگر ہمیں ووٹ دینگے تو ہی آپ کا بندہ واپس آئیگا۔ جو شخص لوگوں سے اس نام پر ووٹ مانگنے گیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اغواء کنندہ بھی وہی شخص ہے۔
اس عمل کی پورا ایوان مذمت کرتا ہے۔ ہم گزشتہ بیس پچیس سالوں سے یہ آواز اٹھاتے رہے ہیں کہ ہمارے لاپتہ افراد زندہ ہیں تو انہیں سامنے لایا جائے اوراگر زندہ نہیں اور انہیں کوئی نقصا ن پہنچایا گیا ہے تو بھی ان کے لواحقین بتایا جائے تاکہ کم از کم وہ ان کیلئے فاتحہ خوانی توکریں۔
انہوں نے کہاکہ انتخابات بہت افسوسناک طریقے سے ہوئے درینگڑھ میں باپ پارٹی کے امیدوار سمیت ساڑھے تین سو لوگ مارے گئے ۔ ان کیلئے بھی ایوان میں فاتحہ خوانی کی جائے۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہم نے اپنے دور حکومت میں پہلا کام پرویز مشرف کی باقیات کو ختم کرنے کیا ۔ڈی پی او ، ڈی سی او ، لوکل گورنمنٹ کے قوانین کو ختم کرکے اپنے قوانین رائج کرائے ۔ ڈپٹی کمشنر اور کمشنری نظام کو بحال کرکے انہیں اختیارات دیئے۔اور سب سے بہتر کام ہم نے عوامی خواہشات کے مطابق لیویز کا نظام بحال کیا ۔اب شنید میں آرہا ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال لیویز کو پولیس میں ضم کرنے کا سوچ رہے ہیںیا انہیں نالہ پار سے پیغام آیا ہے ۔
ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اس قسم کے اقدامات نہ کریں جو عوام کے مزاج کے خلاف ہوں۔ نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ گوادر کو ہماری حکومت نے سرمائی دار الحکومت قرار دیا کیونکہ دفتر خارجہ میں یہ باتیں چلتی ہیں کہ فیلڈ مارشل ایوب خان نے گوادر کو مسقط سے تین لاکھ ڈالر میں خریدا مگر گوادر ہمیشہ مکران اور بلوچستان کا حصہ رہا ہے۔
اس وقت بھی گوادر مکران اور بلوچستان کا حصہ تھا مگر اسے صرف رسمی طور پر ہمیں حوالے کرنا تھا۔ میرے والد کمندان مکران کور رہے ہیں۔ سلطان قابو س اکثر گوادر آیا کرتے تھے ۔ مسقط سے شاہی خاندان یہاں نقل مکانی کرکے آیا کیونکہ وہ شاہی خاندان تھا اورہمارے مہمان اور قابل احترام تھے توخان قلات احمد یار خان نے انہیں گوادر پورٹ کو آمدن کیلئے مفت استعمال کرنے کی اجازت دی تاکہ مسقط کے اس شاہی خاندان کا گزر بسر ہو۔
گوادر ابھی بھی ہمارا اٹوٹ انگ ہے۔ ہم کسی بھی سی پیک اور کسی بھی طریقے سے گوادر کو نہ کسی کو بیچنے دینگے اور نہ کسی کا قبضہ قبول کرینگے۔ ہمیشہ یہ کہیں گے کہ یہ بلوچوں کی ملکیت ہے اور اسے بلوچوں کی ملکیت رہنے دیا جائے۔ اگر کہیں بھی ہماری ملکیت اور ہمارے حقوق سے متعلق گڑبڑ ہوگی تو ہم بھی گڑبڑ کا جواب گڑبڑ سے دیں گے۔ سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریکوڈک کے بارے میں بھی ہم نے واضح مؤقف اختیار کیا۔ اسی ریکوڈک کی بناء پر مجھ پر خودکش حملہ ہوا ۔
بہت سے لوگ خودکش وغیرہ سے متعلق بڑی کہانیاں بناتے ہیں ااور الزام تراشیاں کرتے ہیں۔ انہیں الزام تراشیوں سے باز آنا چاہیے۔ چیف آف سراوان نے کہا کہ جام کمال خان کو کہنا چاہتا ہوں کہ آپ کے نانا خان میر احمد یار خان نے محمد علی جناح کے ساتھ جو معاہدہ کیا تھا اس کی نقل آپ کے پاس ہوگی آپ کو چاہیے کہ اس معاہدے کے ایڈووکیٹ بنیں نہ کہ آپ اس کو چھپا کر بیٹھے ہوئے ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ نیشنل فنانس کمیشن کو آٹھ سال ہوگئے ہیں مگر اب تک نیا ایوارڈ نہیں ملا۔ کمیشن کے اجلاس میں حزب اختلاف صوبائی حکومت کا بھر پور ساتھ دے گی تاکہ وفاقی حکومت کو باور کرایا جائے یہ ہماری دولت اور ہمارا پیسہ ہے اسے ہمارے ہی لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونا چاہیے ۔ اب باتیں ہورہی ہیں کہ عوام کے یہ پیسے کہیں اور خرچ ہوں گے جو ہمیں قبول نہیں۔
قوم پرست نہیں عوام کا خادم ہوں ، ہماری ملکیت اور حقوق میں گڑ بڑ ہوئی تو جواب بھی گڑ بڑ سے دینگے ، نواب رئیسانی
![]()
وقتِ اشاعت : October 30 – 2018