|

وقتِ اشاعت :   April 29 – 2019

کوئٹہ:  کوئٹہ کے علاقے وحدت کالونی میں رہائشی ملازمین نے حکومت کی نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرے کے شرکاء سے حلقہ سے منتخب رکن بلوچستان اسمبلی اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین اختر حسین لانگو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہمارے گھر مسمار کرکے اپنے گھر تعمیر کررہی ہے جس منصوبہ کو نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم کا نام دیکر لوگوں کو بے گھر کیا جارہا ہے،

اس منصوبے کی بنیاد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے دور حکومت میں رکھی گئی تھی فلیٹس کی تعمیر کے لیے اس وقت کچلاک کے مقام پر اراضی حاصل کی گئی تاہم فزیبلٹی رپورٹ آنے پرمعلوم ہوا کہ یہ جگہ منصوبے کیلئے سود مندہی نہیں ہے جس کے بعد سے اس منصوبے پر عملدرآمد نہیں ہوپایا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کا نے دوبارہ افتتاح تو کردیا ہے مگر اب تک یہ فیصلہ نہیں کرپائی کہ وحدت کالونی میں رہائشی 450 فیملیز کے گھر مسمار کرکے انہیں سڑکوں پر ٹینٹ لگاکر دیگی یا کرایہ کے مکانوں کا بندوبست کرے گی۔

انہوں نے کہاکہ2014 میں بلوچستان نیشنل پارٹی نے بلوچستان اسمبلی سے لوگوں کو مالکانہ حقوق کی فراہمی کیلئے ایک قرار داد منظور کرائی تھی جس پر عملدرآمد نہیں ہوسکا ہم نے عہد کیا ہے کہ 2004ء کی اسمبلی میں ہم نے عوام کی فلاح وبہبود کیلئے جو اقدامات اٹھاتے تھے موجودہ اسمبلی میں ان کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے۔

ہم نے اس وقت کی حکومت کے سامنے یہ موقف رکھا تھا کہ وحدت کالونی میں واقع رہائشی گھروں کی تعمیر ومرمت کیلئے صوبائی حکومت سالانہ جتنی رقم محکمہ بی اینڈ آر کو ادا کررہی ہے اس میں ایک نئی رہائشی کالونی تعمیر ہوسکتی ہے۔

اگر اس وقت کی حکومت ہمارے موقف کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرتی تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ آج بلوچستان میں کوئی سرکاری ملازم بے گھر نہیں ہوتا بلوچستان نیشنل پارٹی ایک مرتبہ پھر بلوچستان اسمبلی میں عوام کو مالکانہ حقوق دلانے کیلئے بلوچستان اسمبلی کے اندر اور باہر جدوجہد کریگی۔ اس سلسلہ میں ہماری پہلے سے ہی مختلف سیاسی جماعتوں اور وزیراعلیٰ بلوچستان سے بھی بات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی قائد سردار اختر جان مینگل اور میں نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں وفاقی وزیراورسیکرٹری ہاؤسنگ سے ملاقات کی ملاقات میں سردار اختر مینگل نے وفاقی وزیر کو کہا کہ جس کالونی میں پہلے سے موجود رہائشی مکانات کومسمار کرکے فلیٹس بنانے جارہے ہیں وہاں آپ کو علم ہے کہ کتنے لوگ رہتے ہیں جس پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ہمیں پتہ نہیں ہے حکومت بلوچستان نے ہمیں یہ زمین فلیٹس تعمیر کرنے کیلئے فراہم کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ اجازت نہیں دینگے کہ وہ ہمارے مکانات مسمار کرکے اپنے مکانات تعمیر کرے۔ مظاہرے کے شرکاء سے حمزہ محمد شہی ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وحدت کالونی میں ساڑھے 4 سو مکانات ہیں جن میں ساڑھے 4 سو خاندان آباد ہیں۔

حکومت وحدت کالونی میں ساڑھے چار سو گھرانوں کے لئے پینے کا پانی،گیس، بجلی کا مسئلہ حل اور صفائی کو ممکن نہیں بناسکتی 50 ہزار گھرانوں کو کہاں سے فرہم کریگی۔ انہوں نے کہا کہ وحدت کالونی کے مکانات کی الاٹیز نام کئے جائیں اگر مکانات گرائے یا خالی کر وائے گئے تو شدید احتجاج کا راستہ اختیار کریں گے۔