|

وقتِ اشاعت :   April 29 – 2019

کوئٹہ : بلوچستان کے وزیر خزانہ اور اطلاعات ظہور احمد بلیدی کا کہنا ہے کہ اسپیکر بلوچستان اسمبلی کو تبدیل کرنے پر غور نہیں کیا جارہا، صوبائی وزراء کے قلمدانوں میں تبدیلی باہمی رضامندی سے ہوئی اور یہ معمول کی بات ہے۔

صوبائی سطح پر وسائل کو درست تقسیم کرنے کیلئے صوبائی مالیاتی کمیشن بنایا جارہا ہے۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ کے ایوب اسٹیڈیم میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اپوزیشن کی جانب سے پی ایس ڈی پی سے متعلق الزامات پر صوبائی وزیر خزانہ نے کہا کہ اپوزیشن سیاست چمکارہی ہے بجٹ پر کام ہورہا ہے اور ترقیاتی بجٹ تیزی سے عملدرآمد ہورہا ہے۔ 90فیصد جاری اسکیموں پر تیزی سے کام جاری ہے۔

نئی اسکیموں کیلئے بھی رقم محکمہ خزانہ اور ترقی و منصوبہ بندی نے اچھی خاصی اتھارئیزیشن کرلی ہے۔ نئے بجٹ کی تیاری کا کام بھی جاری ہے اور نئی منصوبوں کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وفاق سے صوبے کو ملنے والے فنڈز کی بلوچستان میں تقسیم کا کوئی فارمولہ طے نہیں۔ کوئی طریقہ کار طے نہیں کہ یہ فنڈز کس طرح سے اضلاع، تحصیل اور یونین کونسل کی سطح پر تقسیم ہوں۔ اس سلسلے میں ہماری کوشش ہے کہ صوبائی سطح پر وسائل کی تقسیم کیلئے صوبائی مالیاتی ایوارڈ بنایا جائے۔

اس سلسلے میں سمری بھیجی جاچکی ہے اور منظوری کے بعد یہ کمیشن تشکیل دے دیا جائیگا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے تعلیمی اسکالر شپس ختم کرنے سے متعلق سوال پر ظہور بلیدی نے کہا کہ بلوچستان حکومت کے اس حوالے سے تحفظات ہیں۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز کی تقسیم این ایف سی ایوارڈ کی طرح کیا جائے۔ این ایف سی میں ہمارا حصہ نو فیصد ہے ایچ ای سی کے فنڈز میں سے بھی ہمیں نو فیصد حصہ ملنا چاہیے۔ اس وقت ایچ ای سی کی جانب سے بلوچستان کی یونیورسٹیوں کو ملنے والا بجٹ حوصلہ افزا نہیں۔ بلوچستان کو سکالرشپس میں دو فیصد اور یونیورسٹی کو ترقیاتی مد میں فنڈز چار فیصد سے بھی کم ملتے ہیں۔اس حوالے سے ہم ایچ ای سی اور وفاق سے بات کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب سے بلوچستان میں کافی تباہ کاریاں ہوئی ہیں ہم نقصانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ حتمی رپورٹ تیار کرنے کے بعد بلوچستان حکومت اپنے وسائل سے بھی نقصانات کے ازالے کی کوشش کرے گی اور وفاق سے بھی مدد مانگیں گے۔ بلوچستان کابینہ میں وزراء کے قلمدانوں میں تبدیلی سے متعلق سوال پر صوبائی وزیراطلاعات نے کہا کہ سابق صوبائی وزیر خزانہ عارف محمد حسنی بڑے قابل،ایماندار اور خزانہ کے معاملات کو سمجھنے والے آدمی ہیں۔

انہیں این ایف سی ایوارڈ کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے پر نہیں ہٹایا گیا بلکہ یہ باہمی تبادلہ تھا۔ انہوں نے محکمہ خزانہ کے معاملات کو بہت اچھے طریقے سے چلایا میں بھی کوشش کرونگا کہ ان کی طرز پر کام کرسکوں۔ انہوں نے اسپیکر کی تبدیلی سے متعلق سوال پر کہا کہ ایسی کوئی تبدیلی ابھی زیر غور نہیں۔ ظہور بلیدی نے کہا کہ تلوار بازی کے قومی مقابلوں کا کوئٹہ میں انعقاد بلوچستان کیلئے اعزاز ہے۔

ان مقابلوں میں بلوچستان کے بچوں نے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا اور فتح حاصل کی۔ تین سال کے کم عرصے میں بلوچستان کی ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ مستقبل میں حکومت بلوچستان کھیل کے شعبے کو مزید ترقی دے گی۔ آئندہ بجٹ میں اس سلسلے میں خطیر رقم مختص کی جائے گی۔