گوادر: تربت یونیورسٹی گوادر کیمپس کے زیر اہمتام گوادر میں دو روزہ پیغام پاکستان نیشنل یوتھ کانفرنس کا اختتام ھو گیا۔ اس کانفرنس میں مختلف پروگرام رکھے گئے تھے۔ کانفرنس میں سینکڑوں مرد، خواتین اور طلبہ و طالبات نے شرکت کی۔ کانفرنس میں ملکْ کے مختلف معاملات کا احاطہ کیا گیا اور خاص طور پر امن و بھائی چارگی پر زور دیا گیا۔ کانفرنس کے پہلے روز کے مہمان خاص سنیٹر کہدہ بابر تھے۔
کانفرنس کے ابتدائی کلمات تربت یونیورسٹی کے وائس چانسلر عبدالرزاق صابر نے اداکئے جس میں انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو کانفرنس کے اغراض و مقاصد سے آگاہی فراہم کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سنیٹر کہدہ بابر کا کہنا تھا کہ پیغام پاکستان کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے جس سے نوجوانوں میں نیا جوش و ولولہ پیدا ہوگا کیونکہ پاکستان کی ساٹھ فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے ان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔
جو پاکستان اور گوادر کی ترقی کے لئے اہم ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ماضی سے نکلنا پڑے گا، گلے شکوے کی تمہید کی سوچھ سے باھر نکل کر اپنی صلاحتیوں پر انحصار کرنے کی چلن پیدا کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج جو سہولتیں ہمیں میسر ہیں ماضی میں یہ سہولتیں میسر نہیں تھیں، ہم تین تین دن کا سفر طے کرکے تعلیم کے حصول کے لئے دیگر شہروں کا رخ کرتے تھے آج الحمداللہ یہ سہولتیں ہمیں اپنی دھلیز پر میسر ہیں۔
جس سے استفادہ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ گوادر میں الگ یونیورسٹی کا قیام ہم سب کا خواب ہے، جس کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا، تعلیمی کے فروغ سے ہم کسی بھی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی اہلیت رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے رونماء ہونے والے واقعات سے دل خون کے آنسو روتا ہے، پشاور اور اورماڑہ کے دہشت گردی کے واقعات قابل مذمت ہیں۔
پشاور میں معصوم بچوں کا ناحق خون بہایا گیا اور اورماڑہ میں ہمارے محافظوں کو بے دردی سے شہید کیا گیا، دہسشت گردی ملک اور قوم کی ترقی کے لئے رکاوٹ ہے، دہشت گردی کے واقعات کے سد باب کے لئے بحیثیت شہری ہمیں اپنے سیکورٹی فورسز کے پشت پر ہونا پڑے گا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ اسلام آباد کے ڈی جی پروفیسر ڈاکٹر محمد ضیاالحق نے کہا کہ قومی بیانیہ پیغام پاکستان کا بنیادی نقطہ ہے۔
قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب امید باقی ریے۔ انہوں نیکہاکہ اس امر سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ ہمیں مشکلات درپیش ہیں لیکن نوجوان ان تمام چیلنجز کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنی ملک اور ترقی کے لئے رائیں ہموار کرسکتی ہیں۔ انہوں نیکہاکہ یہ ملک ہماری ماں ہے ماں کی تحفظ اور اس کی آبیاری ہم سب کا فرض ہے یہ وطن ہم سب سے محبتیں چاہتا ہے ہم اسے اپنی شان اور مستقبل بنائیں۔
کانفرنس کے موقع پر مختلف اشیاء کے اسٹالز بھی سجائے گئے تھے۔ جس میں شرکاء نے گہرے دلچسپی کا اظہار کیا۔ کانفرنس کا انعقاد بلوچستان رولر سپورٹ پروگرام کے تعاون سے کیا جارہا ہے۔